ماں باپ، استاذ یا پیر کو قبلہ و کعبہ کہنا اور اللہ تعالی کے حلول سے متعلق اعتراض کا جواب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل کے اعتراض کے بارے میں : کوئی شخص ماں باپ اور استاذ و پیر صاحب کو قبلہ و کعبہ کہہ کر خط وغیرہ لکھے یا صرف منہ سے نکالے تو یہ لکھنا اور بولنا درست ہے یا نہیں۔ زید نے ان کے استاذ پیر کوقبلہ کعبہ لکھ کر خط بھیجا تو بکر یہ اعتراض کر بیٹھا کہ یہ کیسے ہیں کہ پیر صاحب کو قبلہ کہا اور کعبہ بھی اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ قبلہ کے معنی تو میں جانتا ہوں اور مانتا ہوں اور کعبہ کس کو بولا جاتا ہے۔ ہم کعبہ بیت اللہ کو کہتے ہیں یعنی کعبہ وہ گھر جس کی طرف ہر مسلمان منہ کر کے نماز پڑھتا ہے پھر بھی پیر صاحب کو یا ماں باپ کو بیت اللہ بنالیا جہاں اللہ ہے وہی بیت اللہ نہیں تو پھر لوگوں سے اعتراض کر بیٹھا کہ درخت کے اندر بھی تو اللہ رہتا ہے تو کیا درخت کو بیت اللہ کہ دیا جاوے گا اور اگر ایسا ہی ہو تو ہم کعبہ شریف کے بجائے کعبتہ الشجر ہ کہہ کر نماز پڑھیں گے تو کیا حرج ہے۔ لہذا برائے مہربانی مجھے مندرجہ بالا سوال کے جواب کو کچھ تفصیل کے ساتھ تحریر کر دیں اور قیامت و آخرت کو انجام بخیر ہوں ۔ بین کرم ہوگا۔ مع دلیل حوالہ۔
الجواب: تعظیماً قبلہ وکعبہ کہنے میں حرج نہیں اور اس پر یہ کہنا کہ بیت اللہ بناد یا غلط ہے کہ اس معنی کر کوئی نہیں کہتا اور قائل نے یہ جو کہا معاذ اللہ، اللہ پیر میں رہتا ہے یہ کلمہ کفر ہے اللہ تعالیٰ حلول سے پاک و منزہ ہے قائل پر اس سے تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح جب کہ بیوی رکھتا ہے لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ القوی