رام اور خدا کو ایک کہنے والے کا شرعی حکم کہ وہ کافر ہے
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: زید کا یہ کہنا کہ رام کہو یا خدا کہو دونوں ایک ہی بات ہے۔ کیا زید کا کہنا صحیح ہے یا غلط ۔ اور اس کے لیے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے مدلل مفصل تحریر فرما کر مشکور فرمائیں۔ لمستفتی محمد فہیم میاں محلہ پھول والان بریلی شریف یونی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
رام کہو یا خدا کہو دونوں ایک ہی بات ہے ایسا کہنے والا کافر ہے! الجواب: زید نے غلط کہا اور بہت سخت کلمہ ملعونہ کفریہ بکا اور اللہ تعالیٰ کو سخت دشنام دی اللہ معبود برحق ہے جو حلول واتحاد سے پاک ہے اور رام ہندؤں کا معبود باطل ہے جس کو وہ یونہی رام کہتے ہیں کہ وہ ان کے نزدیک ہر چیز میں رہا ہوا ہے یہ دونوں کو ایک کہہ رہا ہے۔ تو بہ تجدید ایمان تجدید نکاح اگر بیوی والا ہولا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر اختر رضا خاں قادری از هری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۴۹۱–۴۹۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
خدا و رسول کا واسطہ دینے پر ان کے انکار اور کفریہ کلمات پر حکم شرع
باب: کتاب العقائد
داڑھی کی اہانت شعار اسلام کی اہانت ہے، ڈارھی کو خنزیر کی پونچھ کہنے والا کا فر ہے!
باب: کتاب العقائد
میلاد شریف کو گالی دینا کفر ، جس نے میلاد کو گندی گالی دی کا فر ہو گیا۔ گالی بکنا حرام !
باب: کتاب العقائد
ماں باپ، استاذ یا پیر کو قبلہ و کعبہ کہنا اور اللہ تعالی کے حلول سے متعلق اعتراض کا جواب
باب: کتاب العقائد
شریعت کا انکار کرنے اور برادری کے جرمانہ کے طور پر کھانا کھانے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد