میلاد شریف کو گالی دینا کفر ، جس نے میلاد کو گندی گالی دی کا فر ہو گیا۔ گالی بکنا حرام !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید جو ایک میلا دخواں جماعت کا فرد ہے اور عادةً غلیظ گالیاں بکتا ہے اور تنگ مزاجی کے ساتھ ساتھ غیبت کا بھی عادی ہے۔ چند مواقع پر زید مذکور نے مندرجہ ذیل گالیاں بکیں جو کہ نا قابل تحریر ہیں ۔ جن کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہے۔ اور لکھنے میں شرم دامن گیر ہے۔ [1] میلاد کی ماں کی. [۲] میلاد میں جانے والے کی ماں کی .. زید مذکور جوگالیاں بکنے میں کوئی جھجک نہیں محسوس کرتا ہے کسی میلادخواں کی جماعت میں شامل رہ سکتا ہے یا نہیں۔ میلادشریف کے لیے جو مندرجہ بالا [1] میں گالی ہے اور میلاد میں جانے والے کے لیے مندرجہ بالا [۳] میں گالی ہے۔ ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے۔ المستفتی: راغب حسین ، ۲۴ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۱ھ مطابق ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء
الجواب: گالیاں بکنا حرام بد کام بدانجام اور میلاد شریف کو گالی دینا کفر اور جس نے وہ گندی گالی میلاد کودی کا فر ہو گیا اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ القوی ۲۶ ؍رجب المرجب ۱۴۰۱ھ