اللہ تعالی کی بارگاہ میں عدل وانصاف کی نفی کرنے والے کلمات کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہندہ حمل کے درد کی وجہ سے بوقت درد یک بیک تنگ ہو کر کہتی ہے کہ اللہ کو چار نہیں ہے"۔ مطلب یہ ہے کہ خدا وند قدوس کی بارگاہ میں عدل و انصاف نہیں ہے۔ ہندہ مذکورہ بنگال کی باشندہ ہے اور ہمارے یہاں بھی استعمال لفظ مذکور کا ہوتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس قول سے کفر لازم ہوتا ہے یا نہیں محض تو بہ کرنے سے کام ہو جائے گا یا تجدید ایمان بھی کرنا ہوگا ۔ بینوا توجروا۔ جواب جتنی بھی جلدی ممکن ہو عنایت فرمائیں ۔ معاملہ سنگین ہے۔ المستفتی: حافظ محمد شفیع احمد، نانیار و برا کی
الجواب: بے شک یہ جملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں کھلی گستاخی ہے اور اس کے فرمان کا انکار ہے اللہ تعالی فرماتا ہے : آن الله ليس بظلام للعببي) یعنی اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم فرمانے والا نہیں۔ (1) سورة ال عمران : ۱۸۲ اور فرماتا ہے: وَمَا ظَلَمُهُمْ )۔ ترجمہ: اور ہم نے بندوں پر ظلم نہیں فرمایا۔ وہ عورت یہ جملہ بک کر کافرہ مرتدہ ہو گئی ۔ تو بہ وتجدید ایمان کرے اور تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله