وسیلہ کو شرک کہنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے کہ: دعائے ثانیہ میں یہ شعر پڑھنا شرک ہے؟ شعر درج کئے دیتا ہوں ۔ یا الہی رحم فرما مصطفی کے واسطے یا رسول اللہ کرم کیجئے خدا کے واسطے اور کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام ان لوگوں کو جو ایسا فرماتے ہیں۔ المستفتی محمد فخر الدین قادری، امام مسجد باسم ضلع اکولا، مہاراشٹر
الجوا: شعر مذکور درست ہے ہرگز شرک نہیں توسل واستعانت به انبیاء واولیاء کرام شرعا جائز بلکہ مطلوب ہیں اور اس شعر میں استعانت بطور توسل ہے اور پہلے مصرع میں مصطفی علیہ الصلاۃ والسلام کو خدا کی طرف وسیلہ بنایا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ ) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ تو وسیلہ کو شرک بتا نا اللہ تعالیٰ پر شرک کی تہمت دھرنا ہے کہ اس نے اپنے قرآن مجید میں وسیلہ ڈھونڈنے کا حکم دیا ہے بلکہ خود شرک میں پھنسنا ہے اور توحید سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے کہ وسیلہ بننے سے اللہ تعالیٰ منزہ ہے کہ اس سے اوپر کون ہے جس کی طرف یہ وسیلہ بنے گا معاذ اللہ ! اور شرک یہ ہے کہ خاص صفت الہیہ میں کسی کو شریک جانے تو توسل کو شرک کہنے کا مفاد لا محالہ یہ ہے کہ جس وصف سے خدائے قدوس منزہ ہے وہ اس کیلئے ثابت مانا جبھی تو دوسروں کیلئے اسے شرک کہا اور جب توسل شرک ٹھہرا تو لا محالہ لازم آیا کہ معاذ اللہ خدا کے اوپر کوئی ہو جس کی طرف یہ توسل کرے، ولا حول ولاقوۃ الا باللہ اعلی العظیم ۔ ایسے عقائد والے وہابی ہیں۔ ان سے پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب : واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳/ذیقعده ۱۴۰۳ھ