قبرستان میں بنے مکان میں میلاد خوانی اور دین بدلنے کی دھمکی دینے کا شرعی حکم
اگر ایسا نہیں ہوا تو ہم اپنا دین بدل دیں گے" کہنے پر کیا حکم شرع عائد ہوتا ہے؟ قبرستان میں مکان بنانا کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : قبرستان میں جو مکان ہیں ان مکانوں میں میلادشریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں ہمارے گاؤں کی جو میلاد کی پارٹی ہے یہ کہتی ہے کہ قبرستان میں جو مکان ہیں ان میں میلادشریف پڑھنانا جائز ہے وہ لوگ ایک طرف ناجائز کہتے ہیں اور دوسری طرف وہی پارٹی قبرستانوں میں چادر وغیرہ پڑھنے جاتے ہیں جوتے پہن کر یہ کیا درست ہے اور قبرستان میں جن لوگوں کے مکان ہیں ان میں سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے گھر وہ پارٹی یا اور کوئی پارٹی میلاد شریف نہیں پڑھے گی تو ہم لوگ اپنا دین بدل دیں گئے چاہے کوئی دین اختیار کرلیں گے اس صورت حال میں ان لوگوں کے یہاں میلاد شریف پڑھنا یا ان لوگوں کے یہاں کھانا پینا دعا سلام کرنا کیسا ہے اگر ان لوگوں نے دین بدل دیا تو اس کا دونوں میں کون گنہگار ہوگا اس کا جواب معہ حوالہ کتب ارشاد فرما ئیں عین کرم ہوگا۔ المستفتی: محمد حسین رضوی ، موضوع فرید اور چودھری عزت گھر بریلی
الجواب: وہ مکان اگر قبرستان کی زمین پر نا جائز طور پر بنائے گئے ہیں تو ان میں میلاد شریف پڑھنافی الواقع ناجائز ہے اور جنہوں نے یہ بکا کہ ”ہم اپنا دین الخ“ وہ اس کلمہ ملعونہ سے کافربے دین ہو گئے تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والوں پر تجدید نکاح بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ القوی