خدا و رسول کا واسطہ دینے پر ان کے انکار اور کفریہ کلمات پر حکم شرع
فی لڑکی اپنے شوہر شیر محمد کے یہاں برابر آتی جاتی رہی اور ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی جو اب تک موجود ہے۔ زیدا پنی لڑکی کو بلانے گیا۔ شیر محمد نے کسی مجبوری سے منع کر دیا تو زید ایک رات کچھ بدمعاشوں کو لیکر شیر محمد کے گھر گیا اور اپنی لڑکی اور نواسی اور کچھ روپیہ نقد اور زیور لے آیا۔ جب شیر محمد نے تلاش کیا تو شیر محمد کی بیوی اپنے ماں باپ کے یہاں موجود تھی۔ شیر محمد چند آدمیوں کو لے کر زید کے گھر گیا اور زور سے کہا تو نے ایسا کیوں کیا جو تم اس طرح سے اپنی لڑکی کو رات میں لے آئے تو زید نے چند لوگوں کے سامنے جو شیر محمد کے ساتھ گئے اور زید کے سر بھی وہاں موجود تھے۔ کہا کہ میں تم سے کیا ڈرتا ہوں میری لڑکی ہے میرا جس وقت جی چاہا لے آیا تو شیر محمد کے ساتھ والوں نے کہا۔ خیر جو ہوا سو ہوا اب شیر محمد کی بیوی کو شیر محمد کے ساتھ بھیج دے اور خدا رسول کا واسطہ دیا تو زید نے کہا میں خدا و رسول کو نہیں جانتا ہوں۔ میں اپنے دل کا تو مختار ہوں دیکھو میں نے کئی بار داڑھی رکھائی اور کئی بار منڈائی میرا جب جی چاہتا ہے شراب پیتا ہوں اور رنڈی بازی بھی کرتا ہوں مجھے کوئی روک نہیں سکتا نہ میں کسی کی ماننے والا ہوں۔ مجبور ہو کر شیر محمد اور ان کے ساتھ والے گھر لوٹ آئے اب جو حکم شرع ہو آگاہ فرمایا جائے۔ المستفتی: شیر محمد ساکن گنگوہ شاہ تھانہ بھوجی پور اضلع بریلی گواہان : نظام الدین ،نتھو ، جمعی
الجواب: اگر یہ بات بھی ہے جو سوال میں غلام رسول کی بابت لکھی ہے تو اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے کہ یہ جملہ میں خدا رسول الح کلمہ کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله