سیاسی جماعت کی حمایت اور اس بنیاد پر عالم دین کی توہین کا حکم
سے معاہدہ کیا ہے کہ اگر وہ بر سر اقتدار ہوئی تو مسلمانوں کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کریگی اور وہ مساجد جو مشرکین کے تسلط میں ہیں جن کی بے حرمتی ہو رہی ہے وہ خالی کرا کے مسلمانوں کے حوالے کر دی جائے گی اور کوٹھاری کمیشن کی ان سفارشات کو یکسر مسترد کر دیا جائے گا جس سے مسلمانوں کی مذہبی درسگا ہیں اور ان کے مخصوص قوانین ( مسلم پرسنل لا) زد میں آرہے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان حضرات کے قول کی تائید میں کئی پوسٹر اور قومی آواز اخبار میں بھی وہی مضمون شائع ہوا جس میں کانگریس کے ذمہ داروں کے عہد و پیمان کا مفصل بیان تھا۔ زید کے علاقے میں کانگریس کا کنڈیڈیٹ وہابی تھا۔ اور جنا سے کھڑا ہونے والا جن سنگھی مشرک تھا زید نے علمائے اہل سنت کے بیانات کی تائید اور اس دینی ضرورت کے پیش نظر کانگریس کو کامیاب بنانے کی مہم میں حصہ لیا اس نے فرد کی حمایت کے جذبہ سے نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کی بحیثیت پارٹی کے رہبر علماء کے بیانات کی روشنی میں حمایت کی لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا یہ فعل جو کسی دنیا وی غرض کے لیے نہیں بلکہ دینی مفاد کے پیش نظر تھا شرعاً جرم ہے؟ اور اگر جرم ہے تو کس حد تک کا اور اس پر شریعت مطہرہ کا حکم کیا ہے؟ اصل صورت کے پیش نظر زید مجرم نہیں ہے تو عوام میں اگر کچھ لوگ زید کی کسی ذاتی رنجش کی بنا پر اسی واقعہ کی آڑ میں توہین کرتے ہیں اور لوگوں میں زید کی جو کہ سنی صحیح العقیدہ عالم دین ہے بد گوئی کرتے ہیں ان پر از روئے شرع کیا حکم عائد ہوتا ہے شرع شریف کی روشنی میں مع حوالہ جواب عنایت فرما کر مشکور اور عنداللہ ماجور ہوں اور مسلمانوں میں انتشار کا سد باب فرمائیں۔ امستفتی: محمد بشیر احمد ، مدرسہ انوار الرضا گورا چوکی پوسٹ بھیوت گونڈہ
الجواب: دار الافتاء کا سیاست حاضرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہاں سے خالص دینی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے ۔ اگر غرض صحیح شرعی داعی تھی اور اس کا حصول اس کی حمایت پر موقوف تھا بایں طور کہ اسے رفع کر کے کسی سنی صحیح العقیدہ سے یہ مطلب حاصل نہ ہو سکا تھا تو یہ جماعت فرض دین کے لئے بر حکم ضرورت وقت جو شرعیہ مسجد تھی ہوئی، واقعی ایسی صورت ہو تو زید پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۴ / جمادی الاخر مئی ۱۳۹۸ھ