مقامات مقدسہ کے ساتھ لفظ شریف لگانا اور محمد بخش یا عبدالمصطفیٰ نام رکھنا
(1) اکثر لوگ مکہ اور مدینہ کے ساتھ شریف لفظ کے استعمال کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات مثلاً اجمیر شریف کلیر شریف، دیوہ شریف، کچھوچھہ شریف ، ردولی شریف بھیسوڑی شریف وغیرہ کہتے ہیں شریعت محمدی کے بموجب ایسا کہنا کیسا ہے؟ (۲) خدائے وحدہ لاشریک کی ذات میں کسی طرح کا شریک بنانے کے ارادے سے نہیں بلکہ لوگ اکثر اپنے بچوں کے نام از راہ محبت و تقدس محمد بخش علی بخش ، خدا بخش ، کرم علی ، رحمت علی حتی کہ عبد المصطفیٰ وغیرہ رکھتے ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے نام رکھنا کیسا ہے؟ واضح جواب مرحمت فرماکر ممنون فرمائیں۔ المستفتی : احمد بخش محله ملک زادہ قصبہ ردولی ضلع بارہ بنکی
الجواب: (1) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ نام جائز ہیں محمد بخش وغیرہ نام زمانہ قدیم سے مسلمانوں میں رائج ہیں اور اس پر کبھی علما کی طرف سے نگیر و اعتراض نہ ہوا۔ وہابیہ دیابنہ جو خواہ مخواہ مسلمانوں کو مشرک بنانے کے درپے ہیں ان کا خلاف کسی گنتی و شمار میں نہیں کہ وہ خود اپنے عقائد وہابیہ کے سبب گمراہ بے دین بلکہ کافر ہیں پھر ان کے سرگروه سرغته مولوی رشید احمد گنگوہی کا شجرہ نسب دیکھ لیئے جس میں ان سے اوپر والوں کے نام بخش پر ہیں دیکھ تذکرۃ الرشيد عبد المصطفی بمعنی غلام مصطفی بھی سیح و خوب اور شرعا محبوب ہے۔ تفصیل کے لئے فتاوی افریقہ، احکام شریعت دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی