ارشاد نبوی ”وہ ہم میں سے نہیں“ کا مطلب اور رمضان میں مغفرت کے مسائل
ارشا درسول پاک ”وہ ہم میں سے نہیں“ کا مطلب، جس نے عشا نہیں پڑھی وہ تراویح پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ (۱) حضرت جبرئیل علیہ السلام کا بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ وہ شخص دور ہو جس نے رمضان پایا اور اپنی مغفرت نہ کرائی اور آپ نے آمین فرما یا وہ شخص دور ہو کا صحیح معنی اور مطلب کیا ہے؟ (۲) کیا رمضان المبارک کے پورے روزے ایمان و احتساب سے رضائے الہی کے لیے رکھنے والے کے حقوق اللہ اور حقوق العباد پچھلے صغیرہ و کبیرہ سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں؟
الجواب: (1) رحمت الہی سے دوری مراد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حقوق العباد کی تصریح نظر سے نہ گزری۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم بہت وسیع ہے جس سے جملہ گناہوں ( صغائر و کبائر ) کے معاف ہونے کی امید ہے اور ظاہر حدیث کا مطلب یہی ہے مگر محدثین نے صغائر کی مغفرت کا قول کیا ہے اس لئے کہ دوسری حدیث میں ہے: ،،ما اجتنبت الكبائر ) یعنی جب تک کبائر سے بچے ۔ قسطلانی میں ہے: (غفر له ما تقدم من ذنبه ) من الصغائر وفي فضل الله وسعة كرمه ما يؤذن بغفران الكبائر ايضاً وهو ظاهر السياق، لكنهم اجمعوا على التخصيص بالصغائر كنظائره من اطلاق الغفران في احاديث لما وقع من التقييد في بعضها بما اجتنبت الكبائر وهي لا تسقط الابالتوبة او الحد (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یعنی ہمارے طریقہ مرضیہ پر نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) پڑھ سکتا ہے مگر فرض پڑھ کر تراویح کی جماعت میں شامل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نماز ہو جائے گی اور بسم اللہ الحمد سے پہلے پڑھنا مسنون ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
(1) فتح الباری شرح صحیح البخاری ج ۱۰، ص ۱۳۵، کتاب المرضى باب ماجاء في كفارة المرض، تحت الحدیث ۵۶۴۵ دار الفيحاء دمشق (۲) ارشاد الساري لشرح صحيح البخارى المعروف بالقسطلانی، کتاب الایمان باب تطوع قیام رمضان من الايمان ، ج ۱ ص ۷۸ ا ، دار الكتب العلمية بيروت