طاق بھرنے، جنات کے نام کی نیاز اور عورتوں کا مزارات و مساجد میں جانے کا حکم
(۱) آج کل لوگ طاق پر نیاز دلاتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ بڑے جن صاحب میرا کام ہو جائے تو میں چراغ روشن کروں گا اور قوالی کرواؤں گا اور پھول کا ہار ڈالوں گا۔ یہ سب کرنا کیسا ہے؟ (۲) عورت مزار پر جا کر کھیلتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ اس پر فلاں فلاں صاحب کا اثر ہے اور وہاں حاضری دے کر کھیلتی ہے اور ان کا وسیلہ دے کر دعائیں مانگنا کیسا ہے؟ (۳) مزار پر جا کر مرد بھی کھیلتے ہیں اور وہ مرد کہتا ہے میں فلاں فلاں صاحب ہوں اور وہ مرد ہر قسم کی باتیں بولنے لگتا ہے۔ بزرگ لوگ پر بھی اثر ہوتا ہے مگر لوگ کہتے ہیں۔ یہ کیسا ہے؟ (۴) عورتیں مسجد میں آکر نیاز دلواتی ہیں اور طاق بھرتی ہیں اور ہار ڈالتی ہیں عورتوں کا مسجد میں آنا کیسا ہے؟ جبکہ علمائے دین کہتے ہیں کہ مسجد میں عورتوں کا آنا منع ہے۔ پھر عورت کو مسجد میں آکر طاق بھرنا کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ ماسٹر شیخ احمد خان محلہ بازارصندل خاں
الجواب: (1) یہ اعتقاد کہ فلاں طاق پر جن رہتے ہیں، ان کی وہم پرستی ہے جو حرام ہے اور اس اعتقاد سے طاق بھرنا اور اس پر ہار وغیرہ رکھنا منع ہے۔ ہمارے علما نے جن کی خیالی خوشامد سے بھی منع فرمایا اور یہ منت ماننا کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو قوالی کراؤں گا، حرام کی منت ماننا ہے اور ان تمام امور سے احتراز و تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عورت کو مزارات پر جاناحرام اور وہاں بیہودہ حرکات کرنا حرام در حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۳) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت شرعی نہیں اور طاق بھر نا اگر خیالی جن کی خوشامد ہے تو یہ حرام در حرام اور اگر نیاز کے لئے کچھ لاتی ہیں تو ان کا آنا ضروری نہیں ، مر دلا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ