نجدی امام کے پیچھے نماز، بد عہدی، نسبندی اور بنگلہ دیشی عورت کے نکاح سے متعلق مسائل
مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۴) زید حج کو گیا اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ میں نجدی امام کے پیچھے نمازیں پڑھیں حالانکہ زید جانتا ہے کہ مجدی امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے۔ پھر بھی دیدہ و دانستہ طور پر نماز میں ان کے پیچھے ادا کیں۔ ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۵) زید نے جمعتہ الوداع کے دن مسجد میں اقرار کیا کسی بات کا، دوسرے دن اپنے اقرار سے بدل گیا اور ہمیشہ لوگوں کو دھوکہ دیتا رہتا ہے اور توڑ پھوڑ لگائے رہتا ہے۔ تو اب زید کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے اور مسلمان اس کے ساتھ کیا کریں؟ (1) بکر نے نسبندی کرالی ہے اب مسلمان اس کے ساتھ کیا کریں؟ (۷) بغیر ثبوت کے نکاح بنگلہ دیش کی عورت کا پڑھانا جبکہ اس کی زبان ہم نہیں سمجھتے ہیں نہ وہ ہماری زبان سمجھتی ہے اور صحیح طور پر کوئی ثبوت بھی نہیں ہے کہ یہ عورت کنواری ہے یا شادی شدہ۔ اس کا نکاح پڑھانا کیسا ہے؟ اور پڑھانے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا المسلطانی: ولی محمد خاں ، موضع موتی پور، ہر ہوا پیپر وار گونڈہ
الجواب: (۱، ۲) سخت گناہ گار مستوجب نار ہے۔ تو بہ کرے ورنہ مسلمان اسے چھوڑ دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سخت جاہل ہے۔ تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہابیہ زمانہ بد عقیدہ ہیں اور بقول جماہیر فقہاء ان کے اقوال و معتقدات کفریہ ہیں۔ ان کے پیچھے نماز باطل بلکہ دانستہ انہیں امام بنانا کفر ہے: ،، لأن تبجيل الكافر کفر کذا فی الدر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اسے چھوڑ دینا لازم جبکہ تو بہ نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) بکر پر تو بہ فرض ہے۔ توبہ کرلے تو اس پر سے گناہ کا وبال اٹھ جائے گا ورنہ وبال بڑھے گا اور واقف حال مسلمان پر اسے چھوڑ دینا لازم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) اگر اس کے کنواری ہونے پر دل جسے تو اس کا نکاح پڑھانا جائز ہے۔ ورنہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ