غیر مسلم کا قبول اسلام اور اپنی جائیداد مسجد کے لیے وقف کرنے کے متعلق شرعی احکامات
(ب) اپنا ذاتی سکونتی مکان شہر کی کسی مسجد کو وقف کرنا چاہتا ہے۔ ( ج ) اس شخص کی دو اولاد ہیں۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی لڑکی کی شادی ہو چکی ہے اور وہ حیدرآباد میں زندگی گزار رہی ہے۔ لڑکا مر چکا ہے اور اپنے پیچھے ایک بیوہ دولڑکیاں اور ایک لڑکا چھوڑ گیا ہے جن میں سے ایک لڑکی کی شادی ہو چکی ہے اور دیگر کم سن ہیں۔ دریافت طلب امور یہ ہیں کہ : (۱) اسکی جائیداد کے وقف کئے جانے کے شرعی احکامات کیا ہیں؟ (۲) شہر کے مسلم ارباب ذی اقتدار کی اس معاملہ میں کیا ذمہ داری ہوگی؟ (۳) اس کے مشرف بہ اسلام ہونے یا اپنا گھر کسی مسجد کو وقف کرنے میں اگر شہر کے مسلم ارباب ذی اقتدار بستی کے امن کو خطرہ محسوس کریں یا پھر کسی ملکی مصلحت کے پیش نظر مناسب نہ جان کر اس معاملہ کورد کر دیں تو از روئے شرع کیسا ہے؟ المستفتی : خطیب محمد شاہی جامع شاہی عید گاہ، ادونی
الجواب: (۱) اگر مشرف بہ اسلام ہو کر وہ جو وقف صحیح شرعی کرے گا وہ لازم ہوگا اور اس کے وہی احکام ہونگے جو ہر وقف کے ہیں لہذا جملہ تصرفات مالکانہ مثل نقل و بیع و ہبہ واعادہ کا مجاز نہ ہوگا۔ در مختار میں ہے: فاذاتم ولزم فلا یملک و لا یملک-الخ (۱) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ جس دیندار و اہلکار کو وقف کی نگرانی سونپے اس پر اس کی نگرانی اور اس کا انتظام لازم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس کو مسلمان کرنے میں دیر لگانا سخت حرام کفر انجام ہے تو رد کر دینا تو اور زیادہ وبال عظیم کا موجب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور خطرہ کی صورت میں اس سے کہیں کہ پہلے قانونی طور پر اجازت حاصل کر لو پھر وقف کرانے (۱) الدر المختار، کتاب الوقف، باب شركة الفاسدة ، ج ۶، ص ۵۳۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت میں خطرہ نہ رہے گا ۔ اور کلمہ پڑھا کر کوئی تحریری سند نہ دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ ؍ جمادی الاخری ۱۴۰۶ھ