باطل عقیدہ والدین سے ترک تعلق اور دیوبندیوں کو مسلمان سمجھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) زید مسجد کا متولی ہے اور مسجد کی زمین میں زید نے گولا کیا ہے جس میں چوری وغیرہ کا مال خریدو فروخت کرتا ہے اور اس پیسے سے کچھ پیسہ مسجد میں کرایہ بول کر دیتا ہے کیا وہ پیسہ مسجد میں لگ سکتا ہے؟ اور مسجد کی زمین میں ایسا کاروبار کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) حامد مسجد کمیٹی کا سکریٹری ہے اور حامد بازار میں ناجائز طریقے سے شراب کی دکان چلاتا ہے کیا ایسے شخص کو مسجد کا سکریٹری رکھا جا سکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ (۳) حامد ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں پڑھ چکا ہے کہ مجیبی سلسلہ کے امام کے پیچھے نماز درست نہیں ہے مگر حامد جان بوجھ کر مجیبی سلسلہ کے امام کے پیچھے نماز کی اقتدا کرتا ہے کیا حامد سے دوستی کا تعلق رکھنا درست ہے کہ نہیں؟ جواب عنایت فرما ئیں؟ (۴) حامد کی والدہ غیر عقائد میں ہتھیاڑہ شریف سے مرید ہے اور حامد اپنے رضوی سلسلہ کا مرید ہے کیا حامد اپنی والدہ کے ساتھ کھانا پینا کر سکتا ہے اپنی والدہ کے ساتھ رہ سکتا ہے کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی محمد نلام امیر تمز و رضوی، حاجی گمر (۲۴/ پرگند )
الجواب: (1) چوری کا مال خرید نا اور فروخت کرنا حرام ہے ۔ یہ حکم اس نشے کا ہے جس کے متعلق شرعی طور پر ثابت ہو کہ یہ چرائی گئی ہے یا نا جائز طور پر حاصل کی گئی ہے ایسی چیز کی خرید و فروخت حرام ہے اور جس چیز کے متعلق شرعاًیہ ثابت نہ ہو اس کی خرید و فروخت میں حرج نہیں ۔ اور مسجد کا کرایہ حلال ہے جبکہ بعینہ مال حرام سے دینا ثابت و معلوم نہ ہو۔ ہندیہ میں ہے: ،، و به نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعینه (۱) اور ناجائز طور پر خرید وفروخت کہیں جائز نہیں اور اس کا وبال کرایہ دار پر ہوگا۔ نہ کہ اس پر جس جس نے زمین یا مکان کرایہ پر دی۔ علماء فرماتے ہیں: تخلل فعل فاعل مختار يقطع النسبة “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) شراب کا کاروبار ناجائز و حرام لعنت کا کام بد انجام ہے اور ایسا شخص جو شراب بیچتا ہے سخت فاسق ہے وہ کسی منصب دینی پر فائز ہونے یا کئے جانے کا اہل نہیں تو ایسی دینی کمیٹی میں صدر سکریٹری وغیرہ بنانا اور رکھنا ناجائز ہے۔ حدیث میں ہے: ” من استعمل رجلا من عصابة و فيهم من هو ارضى لله منه فقد خان الله ورسوله والمومنين(۳) جو کسی جماعت میں کسی شخص کو کسی کام پر مقرر کرے اور اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم کو دوسرا پسند ہو تو اس نے اللہ و رسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وصحبہ وسلم اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں۔ کہ اس صورت میں وہ شخص سنی نہیں یوں کہ مجیبی ، دیوبندی کو مسلمان جانتے ہیں اور یہ دیو بندی وہ ہیں کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی جناب میں اہانت آمیز (1) (۲) الفتاوى الهندية، الباب الثانى عشر فى الهدايا والضيافات، ج ۵، ص ۳۹۶، دار الفکر بیروت الهداية ، كتاب الديات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق ، ج ۲، ص ۵۸۹، مجلس برکات (۳) الجامع الصغير مع فيض القدير ، حرف الميم، ج ۶، ص ۷۳ ، حدیث ۸۴۱۴، دار الكتب العلمية، بيروت عبارتیں کہیں اور کتابوں میں شائع کیں جن پر علمائے حرمین شریفین مصر و شام و ہند وسندھ نے انہیں ایسا کافر بتایا کہ جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے تو مجیبی اور دیو بندی دونوں کا حکم یکساں ہے کہ دونوں کبرائے دیو بند کو مسلمان بلکہ مسلمانوں کا پیشوا و امام جانتے مانتے ہیں تو مصیبی کے پیچھے نماز اسی طرح باطل محض ہے جس طرح دیو بندیوں کے پیچھے باطل محض ہے اور دانستہ اسے امام بنانا ایمان سے ہاتھ دھونا ہے۔ کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (1) در مختار میں ہے: لوقال لمجوسی یا استاذ تبجيلا يكفر ولو سلم على الذمي تبجيلا يكفر لأن تبجیل الکافر کفر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اس کی والدہ اگر عقائد کفریہ رکھتی ہے یا عقائد کفریہ کے حامل کو دانستہ مسلمان جانتی ہے اور اس کی بیعت پر قائم ہے تو اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے وہ تو بہ وتجدید ایمان کرے ورنہ حامد اسے چھوڑ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۰ / رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی