اشرف علی تھانوی اور امام احمد رضا کے بارے میں گمراہ کن تحریر لکھنے والے کا حکم
کون تھے؟ اور شرعی لحاظ سے ان کا مقام کیا ہے؟ ان کے سامنے یہ بحث کرنا کہ حق پر کون اور باطل پر کون ناخواندہ اور ناواقف مسلمانوں کے ساتھ شیطانی کھیل ہے اور اصل اہلسنت و جماعت اسے کہتے ہیں جو قرآن حکیم احادیث پاک فقہ و اجماع امت کے طریقہ پر چل رہا ہو اور آقا ومولیٰ تاجدار مدینہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیز جملہ تابعین و تبع تابعین اور چاروں امام فقہ اور تلقین کے چاروں امام خصوصاً سید ناغوث الاعظم عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیر ہم کو دل و جان سے مانتا ہو اور ان کے نقش قدم پر چلتا ہو اور ان تمام بزرگان دین اسلام پر قطعی ایمان رکھتا ہو بہر حال اثر فعلی تھانوی صاحب کو کافر کہنے سے نہ کوئی سنی ہوتا ہے اور نہ ہی حضرت فاضل بریلوی صاحب کو ماننے سے کوئی سنی ہوتا ہے، فی الحال دنیا میں لگ بھگ ایک ارب چالیس کروڑ مسلمان ہیں لیکن تمام مسلمانوں کا ایسا معاملہ نہیں ہے جیسا کہ بریلوی حضرات سمجھتے ہیں، نقشبندی وغیرہ کو بھی وہابی کہتے ہیں جو کہ سراسر جہالت و زیادتی ہے، بہر حال سنی اسے کہتے ہیں جو عقائد صیح رکھتا ہو نہ کہ بریلوی کے ماننے سے کوئی سنی ہوتا ہے۔ مذکور تحریر نامہ لکھنے والے کو کیسا سمجھنا چاہئے اور یہ کیسے عقیدے کا آدمی ہے؟ قرآن وحدیث کی رو سے جلد سے جلد جواب سے آگاہ کریں۔ فقط ، والسلام ۔ بینوا توجروا
المستفتی : سید پیر صاحب مخدوم میاں راجن شاہ جونی ہوٹل ،ٹیس بی ، کوٹھا کر یا محلہ مقام انجار الجواب: وہ شخص سخت فریبی اور کھلا دیوبندی ہے، فریب اس کا یہ ہے کہ چشتی بن کر اپنے آپ کو سنی صحیح العقیدہ بلکہ سنیوں کا مقتد او پیشوا ظاہر کرتا ہے اور دیو بندی ہونے کا کھلا ثبوت اس کی وہ تحریر ہے جو درج سوال ہوئی، اور تحریر کے شروع میں اس نے جو لکھا کہ عام جملہ مسلمین جو یہ نہیں جانتے ہیں۔ الخ، شیطانی فریب ہے اور صریح قرآن و حدیث کا رد ہے۔ قرآن کریم اور حدیث کی عادت شریفہ ہے کہ دشمن دین سے باخبر کرتے ہیں اور ان سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ قال تعالى : وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ الآية وقال تعالى : هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرُهُمْ - الآية )) ،، وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : اياكم واياهم - الحديث (۲) وقال صلی اللہ علیہ وسلم : لا تجالسوهم-الحديث (۳) اور بیباک اس سنت جمیلہ کو شیطانی کھیل بتا رہا ہے تو دیوبندیوں کی حمایت میں وہی دیو بندیوں کی روش اپنائی کہ اللہ و رسول کی شان میں گستاخی کر بیٹھا ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف (1) سورة المنافقون: ۴ (۲) مشکوۃ المصابیح باب الاعتصام بالسنة فصل ،اول، ص ۲۸ ، مجلس برکات (۳) کنز العمال الفصل الاول في فضائل الصحابة ، حدیث نمبر ۳۲۴۶۸، مؤسسة الرساله، بيروت