داڑھی منڈے کو سلام کرنے کا حکم اور بھنگی کو سلام کرنے کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) داڑھی منڈے کو سلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) عوام کہتے ہیں کہ سلام خدا کو پہنچتا ہے تو کیا ان کا کہنا صحیح ہے؟ (۳) اور لوگوں کا کہنا ہے کہ بھنگی کو بھی سلام کرنا چاہئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں، ایسا کہنے والے پر شرع میں کیا حکم ہے؟ اس کا جواب تشفی بخش عنایت فرمائیں، جناب از ہری صاحب آپ بذاته تکلیف فرما کر اس استفتاء کا جواب لکھیں ،مشکور ہوں گا۔ المستفتی : اسراراحم ، جگت پور، پرانہ شہر، بریلی شریف
الجواب: (1) داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم کرانا مجوس و نصاریٰ کا طریقہ ہے جو حرام حرام حرام بدکام بدانجام ہے۔ حدیث میں ہے: (1) خالفوا المشركين وفروا اللحى واحفوا الشوارب) مشرکوں اور یہود کی مخالفت کرو، مونچھیں پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ نیز حدیث میں ہے: وو ،، من تشبه بقوم فهو منهم (۲) جو جس قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ در مختار میں ہے: یحرم على الرجل قطع لحيته (۳) اسی میں ہے: ”والسنة فيها القبضة (٢) صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب تقليم الاظفار، ج ۲، ص ۸۷۵ مجلس برکات (۲) الجامع الصغير مع فيض القدير، باب حرف المیم ، ج ۶، ص ۱۳۵، دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۸۳ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۸۳ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور داڑھی منڈا خلاف شرع ایک نوع بدعت کا مرتکب ہے اور مرتکب بدعت کی تعظیم بحکم حدیہ ہدم اسلام پر مدد ہے۔ حدیث میں ہے: ،، ومن وقرصاحب بدعة فقد أعان على هدم الاسلام (1) جس نے کسی صاحب بدعت کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔ اور سلام تعظیم ہے تو کسی فاسق معلن کو سلام جائز نہیں کہ شرعا اس کی تعظیم منع ہے۔ در مختار میں ہے : یکرہ السلام على الفاسق لو معلنا (۲) اور عوام کا یہ کہنا کہ سلام خدا کو پہنچتا ہے، اس محل میں تسبیح نہیں ہے کہ فاسق کی تعظیم جب شرعاً ممنوع ہے تو اسے بارگاہ احدیت سے علاقہ نہ رہا، ہاں جہاں شرع نے کسی کی تعظیم کا ( جیسے سنی صحیح العقیدہ، بوڑھے ، اور حافظ قرآن اور سنی عالم دین) حکم دیا ہے تو اس کی تعظیم ضرور اللہ کے حکم کی تعظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا ہے : ” ان من اجلال الله اکرام ذی الشيبة المسلم و حامل القرآن غير الغالي والجافي عنه (۳) اور جس نے یہ کہا کافر بھنگی کے متعلق کہ سلام جائز ہے،شریعت مطہرہ پر افترا کیا اور اس کی نسبت حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نا پاک جرات ہے جو بھنگی کا فر ہے تو اس کا فر کی تعظیم کفر ہے۔ در مختار میں ہے: ،، تبجيل الکافر کفر “(۲) لہذا قائل پرتو به وتجدید ایمان وتجدید نکاح لا زم ہے جبکہ بیوی رکھتا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۹۷ھ/ ۲۸ / ا پریل ۱۹۷۷ء