لفظ 'پیغمبر' کے استعمال پر اعتراض کا علمی جواب اور شرعی حیثیت کی وضاحت
تنقیص شان رسالت معاذ اللہ کرنا شروع کر دی ہو۔ تو ایسی صورت میں اس معنیٰ سے ہم پر احتراز واجتناب واجب ہوجاتا ہے جس کی تائید قرآن کریم کی آیت کریمہ {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرُنَا} سے بصراحت ثابت ہے اب ایک ذرا ساشیہہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج تک تمام علمائے کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے جو یہ معنی اختیار کئے تو کیا وہ سب غلط راستے پر تھے تو حاشا وکلا ہم اپنے علمائے حق کی طرف کبھی ارتکاب غلطی کی نسبت نہیں کر سکتے اور اگر ان سے یہ غلطی سرزد ہوئی بھی ہو تو ہم اس غلطی کو اجتہادی غلطی کہہ سکتے ہیں جو کہ قابل درگزر ہے بلکہ باعث اجر بھی۔ امید کہ حضرات علمائے کرام مہم اللہ تعالیٰ واید ہم اس حقیر و سراپا تقصیر کے اس ضروری شیبہ کا جواب باصواب قرآن کریم وحدیث نبی رؤف و رحیم کی روشنی میں دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ السائل : فقیر عاصی حبیب احمد محسنی نقشبندی مجددی غفرلہ مقیم حیدر آبادسندھ، پاکستان
الجواب: لفظ پیغمبر پر سائل کے اعتراض کا منشاء معنی لغوی پر ارتکاز نظر اور اصطلاح شرح سے صرف نظر ہے۔ شریعت میں رسول و پیغمبر وہ انسان ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تکمیل نفوس بشریہ کے لئے بھیجا ہو اور اس پر وحی نازل فرمائی ہو اور وہ مؤید بالمعجزات ہو اسی معنی کے لئے عربی میں رسول اور فارسی میں پیغمبر سلفا خلفا بلانکیر مستعمل ہے اور ذات رسول کے ساتھ ایسا مختص ہے کہ غیر رسول کے لئے اس کا استعمال بتاویل بھی فقہاء نے روانہ رکھا اور من پیغمبرم کہنے والے کو کافر کہا کمافی الہندیہ: ،، لو قال أنا رسول الله او قال بالفارسية (من بيغمبرم يريد به من بیغام میبرم) یکفر (۱) تو اس لفظ سے معاذ اللہ تنقیص شان رسالت کا شبہہ کسی ذہن میں کیونکر پیدا ہوگا اور قطع نظر اس سے کہ معنی لغوی کو ملحوظ رکھ کے سائل نے جو اعتراض لفظ پیغمبر پر کیا وہی لفظ رسول پر ہوگا اور وہ بھی ممنوع ٹھہرے گا۔انصافا معنی لغوی سے بھی تنقیص نہیں ہوتی بلکہ تعظیم شان مفہوم ہوتی ہے تمام از منہ وامکنہ میں عادت مستمرہ ہے کہ صاحب عظمت کا فرستادہ معظم و محترم ہوتا ہے اور اس کی تعظیم بھیجنے والے کی تعظیم اور (1) فتاوی هندیه ، ج ۲، ص ۲۷۶، کتاب السير الباب التاسع في الاحكام المرتدین، دار الفکر بيروت اس کی تو ہین بھیجنے والے کی تو ہین سمجھی جاتی ہے تو بدرجہ اولی لفظ رسول و پیغامبر ذات مرسل کی عظمت بے غایت پر دلالت کریں گے کہ مرسل بالکسر خداوند قدوس عظیم بے نہایت ہے اور جو پیغام ورسالت اس نے رسول کے ساتھ بھیجاوہ بھی نہایت عظیم ہے اسے بھی عظمت پیامبر میں دخل ہے۔ یہاں سے ظاہر کہ اس جگہ لفظ رسول و پیغمبر افادہ تعظیم میں یکساں ہیں اور ایسا نہیں کہ ایک سے تعظیم کبھی جائے اور دوسرے سے نقص پر دلالت ہو، بے دین جو رسول کو محض ایچی سمجھتے ہیں انہوں نے خدا ہی کی عظمت نہ جانی اور پیام الہی ورسالت کی بلندی نہ پہچانی تو یہ ان کی عقلوں کی کجی ہے نہ کہ لفظ پیغمبر کا قصور ور نہ محمد ابن عبد الوہاب نجدی کو یہ گندا خیال کیوں گزرا وہ تو عربی تھا اور لفظ پیغمبر سے واقف نہ تھا اس نے رسول ہی کے وہ فاسد معنی گڑھے تو کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ لفظ رسول سے وہ معنی مفہوم ہوئے۔ حاشا کلا ہرگز نہیں اور کیا اس کے خیال فاسد کی وجہ سے رسول کا استعمال حرام و ناجائز ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں تو لفظ پیغمبر کا اطلاق بھی ذات نبی پر ممنوع نہ ہوگا کہ وہ رسول ہی کا ترجمہ ہے اور دونوں سے مراد ایک ہے۔ اور پیغمبر سے جس طرح نبی کا وسیلہ و ذریعہ ہونا مفہوم ہوتا ہے اسی طرح رسول سے مفہوم ہوتا ہے۔ پھر واسطہ ہونا تنقیص کا منشاء نہیں بلکہ اس کا منشاء فی فضائل ہے اور محض اپیلچی سمجھنا ہے جو بد مذہبوں کے عقول غیر مستقیمہ کی پیداوار ہے اور قرآن بواسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی طرف بھی نازل ہوا یہی قرآن فرماتا ہے: لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِلَ إِلَيْهِمْ يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَانْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِينًا، قَدْ جَاءَكُمْ مِّنَ اللهِ نُورُ وَ كِتَبٌ مُّبِين 0 (1) اور سائل نے جو یہ کہا کہ جبرئیل علیہ السلام کے لئے لفظ رسول کا ترجمہ پیغمبر صیح ہوتا ہے تو اس پر سوال ہے کہ جی کیوں؟ کیا سائل کی تقریر یہاں جاری نہیں؟ اور سائل نے یہ جملہ بہت سخت لکھا کہ اگر کہا جائے کہ حضور علیہ السلام پیغمبر خلق ہیں بارگاہ خالق میں اور ہمارے معروضات حضرت احدیت جل شانہ میں پیش کرنے والے ہیں تو اول تو یہ بڑی شان و منزلت نہیں جب کہ یہ مقام شفاعت ہے اور مقام محمود ہے اور فضیلت عظیمہ حضور علیہ السلام ہے جس کا ذکر قرآن عظیم و احادیث شریفہ میں آیا اس کے متعلق یہ کہنا کہ یہ بڑی شان و منزلت نہیں جس کا انتساب حضور کی ذات مقدسہ سے کیا جائے“ بڑی جرات ہے جس سے تو بہ ورجوع کی ضرورت ہے اور محمد رسول اللہ سے رسول خلق ہونے کے خیال کو غلط بتانا مفہوم لقب سے حجت پکڑنا ہے اور مفہوم لقب حجت نہیں کما تقرر فی الاصول ۔ پھر ارسلت الى الخلق كافة “اور ”لو تركتم سنة نبيكم لضللتم ) تو رسول الخلق کہنے کے مجوز ہیں تو اسے غلط بتا نا کیا معنی؟ بالجملہ لفظ پیغمبر لفظ رسول کا ترجمہ ہے اور سلف سے آج تک بولا جاتا رہا ہے اس کے اطلاق سے ممانعت نہ ہوگی۔ ہاں جہاں معاذ اللہ اگر بے دین اسے فاسد معنی کے لئے استعمال کرتے ہوں وہاں دوسرا لفظ بولا جائے یا اسی لفظ کو مزید عظمت کے اسلوب میں بے دینوں کے زعم فاسد کے صراحة ودلال رد کے ساتھ بولا جائے اور اسے راعنا پر قیاس کرنا صحیح نہیں کہ راعِنَا “ کو قرآن نے مقرر نہ رکھا اور پیغمبر کے اطلاق پر اجماع ہے اور اجماع یہ نص قرآنی سبیل مومنین ہے اور اجماع محل اجتہاد نہیں کہ اس میں خطا کا احتمال ہو ورنہ ساری امت کا تخطیہ لازم ہوگا جو خلاف نص ہے۔ یہاں سے سائل کے آخر کلام کا حال کھلا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۲۲ ذیقعده ۱۳۹۹ھ صبح الجواب الحسین رضا غفرلہ