تخلیق کائنات سے قبل حدود اور فضا کا وجود
جب صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی ذات لا یحد ولا یتصور ہی موجود تھی اور کچھ نہ تھا تو یہ موجودہ کائنات ہیرہ دہ ہزار بشکل مخلوق جس دائرہ محدود کے اندر موجود ہیں یہ حدود دائرہ اس وقت موجود تھا یا نہیں ؟ یعنی از تحت الثری تا عرش معلی یہ فضائے بسیط اس وقت موجود تھی یا نہیں؟
الجواب: پیش نظر وہ نو بہار سجدہ کو دل ہے بیقرار رو کئے سر کورو کئے ہاں یہی امتحان ہے نوٹ : جواب خواہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو پرواہ نہ کیجئے ، اس زحمت دہی کا اجر اللہ تعالیٰ حضور والا کو عطا فرمائے گا۔ (1) سوال مذکورہ بالا کا جواب بہت تفصیل سے دے چکا ہوں پھر اس کا اعادہ کیوں؟ (۲) اس میں تحریر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان سے منزہ ہے تو یہ سوال خود ساقط ہے۔ (۳) اس کا جواب ۲ ر سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) تمام مخلوقات حادثات ہیں اور ازل اسے کہتے ہیں جس کے پہلے کچھ نہ ہو تو از لیت خاصہ الوہیت ہے، اس کے ساتھ کوئی حادثات کیونکر جمع ہو سکتے ہیں؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) تخلیق کہاں پر ہوئی؟ یا بلفظ دیگر یہ پوچھنا ہے کہ خالق کہاں تھا؟ اور وہ جہت و حیز سے منزہ ۔ تو کوئی کیا بتائے کہ کہاں ہوئی اور کیونکر ہوئی ؟ بس یہ ایمان ہے کہ مولیٰ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے عالم کو پیدا فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) بیشک حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی پہلی مخلوق اور اس کی پہلی تخلی ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) اس تجلی اول کے ظہور ہی نے اس فضاء محل ظہور کو ظاہر کیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) حقیقت محمدیہ خلق سے غیب ہے، حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لم يعرفني حقيقة غير ربی (۱) تو خلق کی حقیقت تک رسائی نہیں اور علم الہی میں ضرور محدود ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) حقیقت محمدیہ نور ہے اور نور وہ ہے جو خود ظاہر ہو، اور دوسروں کو ظاہر کرے تو عالم میں جو کچھ ظاہر ہوا وہ اسی نور اتم کا مظہر ہے، وہ کو کب بھی مظاہر محمدی سے ایک مظہر تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) وہ نور بھی مخلوق ہے اور جسم عنصری شریف حضور علیہ السلام بھی مخلوق ہے اور خلق تمام مظہر باری ہے، اللہ کے مظہر اتم نور جس سال پیہم ہیں کہ اس کی ذات وصفات کے مظہر ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) علوم نبوت کا ظہور تدریجاً حکمت الہیہ پر مبنی ہے، اسے درجہ بدرجہ علم کی ترقی سمجھنا بحسب ظاہر ہے، عجب نہیں کہ علوم غیبیہ سینہ اقدس میں جمع کئے ہوں اور جیسی جیسی حکمت الہیہ متقاضی ہوئی جس جس کے لئے اظہار کا حکم ہوا، حضور نے اس پر ظاہر فرمادیا اور علوم کے خزانہ میں وہ اسرار بھی ہیں جو حضور اور رب حضور کے درمیان را ز سر بستہ ہیں جن کی طرف اصلاً کسی کو راہ نہیں، حدیث معراج، جس میں وارد ہوا کہ میرے حلق میں ایک قطرہ ٹپکا یا گیا۔ الخ۔ اس کی مؤید ہوسکتی ہے، بلکہ سنت نبیا‘ سے استفاد زیادہ اظہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ الاجوبۃ کلہا صحیحۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف