مذہب کو گندی گالی دینے والے کے بارے میں شرعی حکم اور اس کے کفر کا بیان
شادی تھی، فقیر زید کو بلانے اس کے گھر گیا، اس وقت زید کے گھر اور بھی کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، فقیر نے تمام لوگوں سے کہا کہ وہ شادی میں چلیں لیکن کسی نے بھی کچھ نہ کہا، انہی لوگوں میں ایک شخص قمر بھی تھا، اس نے کہا کہ یہ لوگ تمہاری شادی میں اس وجہ سے نہیں جانا چاہتے ہیں کہ زید کے لڑ کے عمرہ اور اس کی بیوی نے خنزیر کا گوشت کھایا ہے اور زید اس بات کو چھپانا چاہتا ہے اور اپنے گھر والوں کی طرفداری کرتا ہے، ہم نے زید سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر بریلی بڑے مولوی صاحب کے یہاں جائے اور تو بہ کرے، زید اپنے لڑکے بکر کو لے کر بریلی گیالیکن بڑے مولوی صاحب کے یہاں نہیں گیا، جب وہ بریلی سے واپس آیا تو ہم نے اس کے لڑکے سے پوچھا کہ تم لوگ بڑے مولوی صاحب کے یہاں گئے تھے ؟ تو لڑکے نے کہا کہ ہم بڑے مولوی صاحب کے یہاں نہیں گئے تھے بلکہ بریلی میں ہی کسی ایک جگہ رک گئے تھے اور واپس چلے آئے، قمر نے کہا کہ زید کے تم سے تعلقات ہیں اس لئے یہ لوگ نہیں آنا چاہتے ، اس کے بعد قمر نے کہا کہ یہ مذہب کی بات ہے ہم سب مل کر اسے طے کر لیں تو اس پر اس مسلمان فقیر نے کہا کہ مذہب کی ماں ۔۔۔۔۔۔ کو قمر کو یہ جملہ بہت ناگوار معلوم ہوا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا آیا۔ شریعت مطہرہ کا ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فقط ۔ سائل : محمدمحمود خاں محلہ صوفی ٹولہ، بریلی (یوپی)
الجواب: جس شخص نے مذہب کو وہ گندی ملعون دشنام دی وہ خارج از اسلام، بے دین ہو گیا، تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح اس پر لازم ہے، جب تک وہ کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان نہ ہو، اس سے مسلمانوں کو تعلق اور ہر قسم کی معالمت حرام ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲ / رجب المرجب ۱۳۹۸ھ