اللہ نماز پڑھنے سے منزہ ہے نماز پڑھنا بندوں کا کام ہے اور اسے مصروف کہنا روانہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ: ایک واعظ نے مجلس عام میں فرمایا کہ جس وقت جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم معراج شریف کو تشریف لے گئے ، ایک مقام پر پہونچ کر جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یارسول اللہ اب یہاں سے آگے جانا میری طاقت سے باہر ہے، رسول پاک خود تنہا آگے بڑھے ، نداء ربانی ہوتی ہے کہ میرے محبوب ! ر کئے ،تمہارا رب نماز میں مصروف ہے، واعظ سے جب دریافت کیا گیا کہ اللہ کس کی نماز پڑھتا ہے؟ تو واعظ نے حدیث بیان فرمائی، واعظ کا کہنا حق ہے یا باطل؟ مجلس میں حافظ قرآن، پیش امام، مولوی صاحبان بھی تھے ، سب نے واعظ کی تائید کی۔ کیا ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ جواب سے مطلع فرمائیں ، حدیث جو پیش کی: ”قف فان ربک یصلی ،، مستانی : ڈاکٹر اجمل خاں، محلہ سوداگران، بریلی شریف
الجواب: واعظ نے حدیث کا ترجمہ وہ کیا جو خلاف شان الوہیت ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نماز پڑھنے سے منزہ ہے، کہ نماز عبادت خدا ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں جس کی وہ معاذ اللہ نماز پڑھے۔ نماز پڑھنا خاص بندوں کا فعل ہے، اسے خدا کے لئے ثابت کرنا تنقیص شان خدائے برتر ہے، اور مصروف“ کہنا بھی خدا کے لئے روانہیں، ترجمہ صحیحہ یہ تھا کہ تمہارا رب درود بھیجتا ہے۔ واعظ پر اور اس کے مؤیدین پر تو بہ فرض ہے، اور تجدید ایمان بھی کر لیں اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کر لیں ۔ جب تک تو بہ صحیحہ نہ کر لیں، ان کی اقتدا سے پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ