ملازمت کی غرض سے میقات میں داخل ہونے والے کے لیے احرام کا حکم
(۱۰) ایک شخص بیرون ملک سے جدہ یا مکہ یا مدینہ شریف صرف نوکری، ملازمت یا تجارت کی غرض سے آتا ہے، کیا اسے بھی میقات میں حالت احرام میں ہی آنا ہوگا ؟ اگر وہ بغیر احرام جدہ میں داخل ہو گیا تو کیا دم واجب ہوگا ؟ اور اگر اب اسے ۲ - ۴ دن کے بعد عمرہ کرنا ہے تو احرام جدہ سے ہی باندھنا ہوگا یا میقات سے باہر جا کر باندھنا ہوگا ؟
شخص مذکور پر لازم تھا کہ موافق شرع داڑھی رکھتا، خصوصا جبکہ اس نے وعدہ بھی کیا تھا،صورت مسئولہ میں شخص مذکور پر نہ صرف وعدہ خلافی کا وبال ہے بلکہ داڑھی موافق شرع نہ رکھنے پر اصرار مسلسل کا و بال دروبال ہے، پھر خط کشیدہ جملے بہت سخت ہولناک ہیں جن کا صاف صاف مفاد یہ ہے کہ اس کے نزدیک داڑھی رکھنا بے فائدہ ہے وہ کوئی اچھی بات نہیں، نیز یہ کہ داڑھی کی مقدار مسنون جومشہور و متواتر و معمول و مقبول عامہ مسلمین ہے وہ اس کے نزدیک نامناسب ہے ، ان باتوں سے اس پر تو بہ علانیہ و تجدید ایمان فرض ہے، بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی فرض ہے، جب تک تجدید ایمان وغیرہ نہ کرے، ہر واقف حال مسلمان اس سے دور رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱) کلمات کفر سے رجوع و توبہ کے بعد لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ پڑھے، پھر برضائے زوجہ نکاح جدید بمهر جدید گواہان کے حضور کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہر حکم شرع کا عنادا انکار غارتگری ایمان ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) نہیں یہ کافی نہ ہوگا، علانیہ توبہ صحیحہ ضروری ہے۔ جامع کبیر للسیوطی میں ہے: اذا عملت سيئة فاحدث عندها توبة:السربالسر والعلانية بالعلانية ) یعنی جب تو برائی کرے تو اس سے تو بہ کر، پوشیدہ برائی سے تو بہ پوشیدگی میں اور علانیہ برائی سے تو بہ علانیہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ان کا بھی وہی حکم ہے جو اس کے متعلق گزرا کہ کفریات پر مطلع ہو کر ان سے راضی رہنا کفر ہے اور یہ حکم اسی صورت میں ہے جب وہ لوگ جان بوجھ کر ایسا کہہ رہے ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جائز ہے اور نماز ہو جاتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ہاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) نعرہ تکبیر سے جبکہ محض ذکر مقصود ہو تو بہر حال جائز ہے، منع نہیں، اور اگر یہ مقصد نہ ہو بلکہ عالم کے آنے کی اطلاع دینی مقصود ہو تو منع ہے اور اگر دونوں قصد ہیں اور قصد ذکر اصالۂ غالب ہے اور اس (1) الجامع الكبير للسيوطى حرف الهمزة مطبوعة موقع ملتقى اهل الحديث / فيض القدير، ج ا ، حدیث نمبر ۷۶۳ ، حرف الهمزة، ص ۵۲۰ دار الكتب العلمية، بيروت کے ضمن پر اطلاع مقصود ہو تو حرج نہیں، مطلق ممانعت کا جو مدعی ہے وہ اعلیٰ حضرت یا کسی معتمد سے اس کا ثبوت دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) عقائد ضرور یہ دینیہ سے پورا واقف مسائل ضروریہ کی معرفت میں مستقل کتاب دیکھ کر وقت حاجت کے مسائل نکال سکے وہ عالم دین ہے، محض تقریریں سن کر عالم دین نہ کہلائے گا جبکہ مذکورہ بالا اوصاف کا حامل نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) جائز ہے، تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا رسالہ ”کفل الفقیہ الفاہم“ دیکھئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) بلا احرام مجاوزت میقات جائز نہیں ہے ایسا شخص جسے تجارت کے لئے مجاوزہ میقات سے مفر نہیں ہے کہ جدہ وغیرہ مقامات داخل میقات کا قصد کر کے وہاں ٹھہر کر مکہ جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله نزیل جده / شب ۲۴ / رمضان المبارک ۱۴۱۳ھ