نماز کبھی کبھی پڑھنے کو بالکل نہ پڑھنے سے کمتر بتانا کیسا؟
سوال
شب ۱۲ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ نماز کبھی کبھی پڑھنے کو بالکل نہ پڑھنے سے کمتر بتانا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ : زید نے اپنی بیوی سے کہا، نماز پڑھو تو پابندی کے ساتھ اس لئے کہ دو دن پڑھو اور دو دن چھوڑ دو اس سے بہتر ہے کہ نہ پڑھو، اس جملہ پر زید کی بیوی ہندہ) نے کہہ دیا کہ نہیں پڑھوں گی نہیں پڑھوں گی۔ لہذا شرع کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: ابرار احمد منظررحمانی بسیتا مزهی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: دونوں سخت گنہ گار مستوجب نارہ مستحق غضب جبار ہیں، دونوں تو بہ کریں اور زید کا حکم اور زیادہ سخت ہے کہ اس نے نماز بالکل نہ پڑھنے کو کبھی کبھی پڑھنے سے بہتر بتایا، اس پر تو بہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۴۷۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
خود کو امام مہدی کہنا اور قرآن و ہنومان چالیسہ ایک ساتھ دفن کرنے کا حکم
باب: کتاب العقائد
مذہب کو گندی گالی دینے والے کے بارے میں شرعی حکم اور اس کے کفر کا بیان
باب: کتاب العقائد
قرآن میں اللہ تعالی کی طرف گالی کی نسبت کرنے اور مفتی اعظم ہند پر غلط بہتان کا حکم
باب: کتاب العقائد
اللہ نماز پڑھنے سے منزہ ہے نماز پڑھنا بندوں کا کام ہے اور اسے مصروف کہنا روانہیں
باب: کتاب العقائد
دینی علوم اور احکام شرع کی توہین کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد