دینی علوم اور احکام شرع کی توہین کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والے کا حکم
حافظ، مولوی بننے سے کوئی فائدہ نہیں اور احکام شرع پر عمل کرنے سے جینا دشوار ہو جائے گا“ یہ جملے کیسے ہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: غلام نبی یہ کہتا ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے علوم قرآنیہ حاصل کرنے کے باوجود کوئی چیز ایجاد نہیں کی مخلوق کی بھلائی کے لئے اور ان مسلمانوں سے کوئی فائدہ مخلوق کو نہیں ہوا اور سائنسدانوں نے اسی قرآن پاک پر ریسرچ کر کے ایک سے ایک چیز ایجاد کی ہے، مخلوق خداوندی کی بھلائی کے لئے ! اور جو شخص علم دین سیکھنے جاتا ہے تو اس کو ان لفظوں سے بہر کا تا ہے، کہتا ہے: ”حافظ مولوی بننے سے کوئی فائدہ نہیں، اور کوئی مولوی اس کے سامنے احکام شرعی پیش کرتا ہے تو کہتا ہے کہ : احکام شرعی پر عمل کرنے سے دور حاضر میں آدمی کا جینا مشکل ہو جائے گا اور یہ بھی کہتا ہے کہ قرآن شریف پڑھے تو سمجھ سمجھ کر پڑھے، ایسے پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، ایسے پڑھنا بیکار ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ قرآن شریف پڑھ کر باپ دادا کے نام سے ایصال ثواب کرنے سے باپ دادا کی مغفرت نہیں ہو جائے گی اور نماز پنجگانہ کا عامل نہیں ہے اور نماز پڑھنے کے لئے کہا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ ابھی ہم نماز کی ریسرچ کر رہے ہیں جب ریسرچ کر لیں گے کہ نماز کیا ہے تب پڑھیں گے۔ اور رمضان شریف کا روزہ بھی نہیں رکھتا ہے اور علانیہ کھانا کھاتا ہے، ماہ رمضان میں یہ سب باتیں سر عام کہتارہتا ہے ،لوگوں میں اور شادی وغیرہ کے موقع پر
الجواب: شخص مذکور سخت جری بے باک اور شریعت پر مفتری بلکہ شریعت سے آزاد ہے اور اس کے خط کشیدہ کلمات بہت سخت ہیں، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان و نکاح بھی ضرور جب تک تو بہ نہ کرلے ہر سنی کو اس سے پر ہیز لازم ہے اور وہ سنی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله