قرآن میں اللہ تعالی کی طرف گالی کی نسبت کرنے اور مفتی اعظم ہند پر غلط بہتان کا حکم
اللہ نے قرآن میں گالی کا استعمال کیا ہے" یہ کہنا کیسا؟ تمام سلاسل کے مرجع علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بے ضرورت تبدیل مذہب جائز نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید سر کار حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کی آڑ لے کر اپنی کمالات و پر ہیز گاری وگالی گلوج ایک دوسرے کی برائی اور غلط بات اور نازیبا کلمات وکفریات کا حفظ کیا ہوا شرائط کو منوانے کے لئے حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کو بدنام کرتا ہو اور کہتا ہو کہ ان باتوں کو استعمال کرنے کے لئے سرکار مفتی اعظم ہند نے میرے حق میں دعا فرمائی ہے کیا یہ بات قابل بھروسہ ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اس میں شرع کا کیا حکم ہے؟ (۲) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کہتا ہے کہ ” قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے گالی کے القاب سے ایک دوسرے کو خطاب کیا ہے“ ۔ کیا یہ قابل بھروسہ
ہے یا نہیں؟ الجواب: المستفتی : سیدعبدالمجید رضوی مصطفوی را جگنگپور، سندر گڑھ،اڑیسہ،770017 (۱) بر تقدیر صدق سوال ہر گز نہیں ، یہ اس کا افتراء ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتا ہے اور اہانت خدا کا مرتکب ہے، اس پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی ضرور ہے، ورنہ ہر واقف حال اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم