شاہ مدار کو نبوت کے مرتبہ پر بتانے اور حضور غوث اعظم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا شرعی حکم
(۲) کہتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو جب نبوت نہیں ملی تھی تو شاہ مدار بدیع الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس مرتبہ پر فائز تھے اور جب حضور کو نبوت مل گئی تو مدار صاحب مرتبہ قطبیت پر پہونچے اور حضور علیہ السلام نبوت پر۔ (۳) حضور غوث اعظم کو صرف اعلیٰ حضرت نے غوث اعظم کہا ہے کسی عالم نے نہیں کہا، یہ کہنا اس کا کہاں تک ٹھیک ہے؟ (۴) حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کہا کہ قدمى هذه على رقبة كل ولى الله ، یعنی کل اولیاء اللہ کی گردن پر میرا قدم ہے۔ یہ حالت وجدیت میں کہا ہے اور یہ کہنا معتبر نہیں اور نہ اس کی کوئی دلیل ہے۔ لہذا میں نہیں مانتا بلکہ میں ان کو صرف ولی کہتا ہوں تم لوگ سردار الاولیاء کہو، میں نہیں کہتا، جیسے حضرت منصور نے انا الحق کہا تھا ویسے ہی عبد القادر جیلانی نے کہا، حضرت غوث اعظم کی درجنوں اولادیں ہوئیں انہیں تو شادیوں سے فرصت نہ تھی۔ (۵) غوث اعظم نے ۱۸ رشادیاں کیں، تعداد سے باہر قدم نکالا پھر کیسے غوث اعظم کہا جاوے، اگر غوث اعظم کہا جاوے تو صرف شاہ مدار صاحب کو کہا جاوے اس لئے کہ شاہ مدار صاحب کا زمانہ نموث اعظم سے پہلے ہوا ہے اور بعد میں سید ناغوث اعظم کا۔ (1) اعلیٰ حضرت کی تحقیق کو میں نہیں مانتا، کوئی اور تحقیق لازمی ہے، ساتھ میں مولانا شاہ عبد الواحد بلگرامی قدس سرہ کی کتاب سبع سنابل شریف میں ہے ان پر تو ڈیڑھ سو کفر کے فتوے ہیں لہذا زید جس کا یہ مقولہ ہے اس کے پیچھے نماز ، میلادشریف پڑھوانا اور دعا وسلام از روئے شریعت کیسا ہے؟ جوابوں سے مطلع فرما یا جائے ، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ، بینوا تو جر وایوم الحساب المستفتی : قاری عبدالمجید رضوی، رتلان، قصبہ بیری ضلع بریلی (یوپی)
الجواب: (ارتا۶) شخص مذکور سخت جاہل بے لگام گستاخ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم وغوثیت مآب حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، اس کا یہ جملہ کفر صریح ہے کہ شاہ بدیع الدین علیہ الرحمہ اس مرتبہ (نبوت پر فائز تھے۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ حضور کو آدم علیہ السلام کی آفرینش سے پہلے نبوت دی گئی ، حدیث میں ہے: كنت نبیا و آدم بين الروح والجسد (میں نبی تھا جبکہ آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔) اس خصوصیت میں حضور علیہ السلام کا کوئی نبی بھی شریک نہیں چہ جائیکہ غیر نبی اس فضیلت میں حضور کا مجاز ہو، غیر نبی کو نبی مانا در کنار، نبی سے تشبیہ دینا بھی کفر ہے، اسی لئے شفا میں متنبی کے کفریات میں اس کا یہ قول شمار کیا جو دیوان متنبی میں ہے اور جس کا مصرع ثانی ہے: کصالح في ثمود جس کا مطلب یہ ہے کہ متنبی نے خود کو حضرت صالح سے اپنی قوم کے درمیان تشبیہ دی۔ تو یہ کہنا بدرجہ اولیٰ کفر ہوا، والعیاذ باللہ ۔ اور باقی جو کچھ اس نے کہا، محض بہتان و افتراء و گستاخی اور توہین سرور اولیاء ہے، اور جو اس نے کہا کہ حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی پر ڈیڑھ سو کفر کے فتوے ہیں محض جھوٹ کہا اور اس تہمت کفر سے وہ خود کا فردر کا فر ہوا، اس پر لازم کہ فورا تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح اگر بیوی رکھتا ہوکرے اور گستاخی سے باز آئے ورنہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله