سنی کو وہابی کہنا، اسٹیل کی گھڑی پہننا اور فاسق و بدکار کی امامت کا حکم
سنی کو وہابی کہنا حرام کفر انجام ہے، فاسق لائق امامت نہیں، اس کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں کہ: (1) زید شادی شدہ ہے، کسی گھر یلو نا اتفاقی کے سبب تنہا زندگی گزار رہا ہے، نماز کے دوران اسٹیل چین ( زنجیر ) والی گھڑی لگائے رہتا ہے وہ سنی العقیدہ ہے، قرب وجوار کی بستی کو اس کے سنی العقیدہ ہونے پر اتفاق ہے ، زید کئی برسوں سے نائب امام کی حیثیت سے نماز پڑھاتا ہے، کیونکہ امام صاحب ضعیف العمر ہیں تمام مصلیان اور مسجد کے سبھی افراد اس کی امامت سے متفق ہیں ایک شخص شبہ وحسد کی بنا پر الزام لگاتا ہے کہ زید وہابی ہے، اس کی امامت درست نہیں تو کیا شبہ کی بنا پر یا معترض کے الزام لگانے پر زید کی امامت درست ہوگی یا نہیں؟ (۲) معترض بھی زید کی امامت میں کئی برسوں سے نماز پڑھ رہا تھا، ان دنوں اس کو امام بننے کی خواہش پیدا ہو گئی ہے جبکہ معترض غلط و نا جائز پیشہ والوں کے یہاں کھاتا پیتا ہے،غصب کی ہوئی زمین پر ( جس کے وارث موجود ہیں) مکان بنا کر بود و باش کرتا ہے اور لوگوں کو مکان کرایہ پر دے رکھا ہے، راستہ میں عورتوں و ہجڑوں کو چھیڑتا ہے، نیز زبان سے اکثر و بیشتر گندے کلمات ادا کرتا ہے، اس صورت میں وہ امامت کا مستحق ہے یا نہیں؟ اور اس کی وعظ ونصیحت درست ہے یا نہیں؟ عرض خدمت ہے کہ براہِ
کرم جواب میں تاخیر نہ فرمائیں، شاید کہ تاخیر سے یہاں کوئی فتنہ کھڑا ہو جائے ۔ فقط والسلام لمستفتى : حفیظ الرحمن الجواب: (1) زید اگر تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہے اور معمولات اہل سنت مثل نیاز وفاتحہ ومیلا دو قیام وعرس بزرگان دین کو جائز و مستحسن جانتا ہے، ردو ہابیہ دیابنہ کرتا ہے اور ہر منکر ضروریات دین کو کافر مرتد بے دین سمجھتا ہے تو زید بلاشبہ سنی ہے، اسے وہابی کہنا حرام بد کام کفر انجام ہے جس نے اسے وہابی کہا اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بر تقدیر صدق سوال وہ شخص لائق امامت نہیں اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے، بشرطیکہ یہ امور اس پر ثابت و مشتہر ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ