قیامت تک نہ مرنے اور نماز روزہ معاف ہونے کے دعوے کا حکم اور طلاق و وراثت کے مسائل
کو کوئی ایک نا معلوم دادا حیات قلندر کے پوتے کا مرید بناتا ہے اور خود کو ایک مستان بھی کہتا ہے، وہ اپنے مرشد کے کہنے پر یہ کہتا ہے کہ میں قیامت تک نہیں مروں گا اور میرے لئے نماز اور روزہ وغیرہ معاف ہے۔ آئے دن اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ باتوں باتوں میں لڑتا جھگڑتا ہے اور انہیں مارتا پیٹتا بھی ہے، ہفتہ روز ہوئے اس نے ایسی ہی ایک حرکت کی اور اپنی بیوی ہندہ کو اس کی عدم موجودگی میں دو مسلمان مرد اور کچھ غیر قوموں کے سامنے یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ میں نے کٹک والی کو طلاق ، طلاق ، طلاق دی۔ واضح ہو کہ اس کی بیوی کٹک کی لڑکی ہے۔ پھر اس نے اسی وقت بڑے لڑکے عمر کو بھی بحالت غصہ گھر سے با ہر نکال دیا کہ ”جامیں نے تجھے فرزندی سے عاق کیا اور میری جائداد پہ تیرا کوئی حق نہیں رہا۔ (1) زید کی یہ حرکت کیسی ہے؟ قیامت تک زندہ رہنے کا اور اپنے لئے نماز روزہ معاف ہونے کا دعویٰ کیسا ہے؟ شرعی حکم سے آگاہ کیجئے۔ (۲) کیا زید کے قول سے بیوی ہندہ کو طلاق ہو چکی؟ جبکہ وہ جائے وقوع پر موجود نہ تھی اور وہ ا۔ کانوں سے طلاق کے الفاظ نہیں سنی۔ (۳) کیا عمر وفرزندی سے عاق ہو چکا؟ کیا اس کا کوئی حق اب اس موروثی جائداد یہ نہیں رہا جس کو زید نے ورثہ میں اپنے والد عزیز خاں سے پایا ہے؟ المستفتی ، قبل حسین حبیبی قادری روم نمبر ۵، جامع مسجد ، بانو بازار، کٹک ، اڑیسہ
الجواب: (۱) اگر شخص مذکور کی عقل بجا ہے اور حواس درست ہیں تو اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے کہ اس کے یہ دونوں قول کفری ہیں اور دوسرا صریح نماز و روزہ کی فرضیت سے انکار ہے تو اس کا کفر ہونا متعین اور پہلے کا ظاہر پہلوموت کا انکار ہے جو کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تینوں طلاقیں ہوگئیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عاق کرنا اور فرزندی سے نکال دینا شرعاً کچھ نہیں، بیٹا اپنے والد کا ترکہ ضرور پائے گا بشرطیکہ عزیز خاں مسلمان مرے اور معاذ اللہ اگر مرتد مر جائے تو بیٹا ترکہ کا مستحق نہ ہوگا، بلکہ وہ مال فقراء مسلمین پر صرف ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم