مرشدوں کی چادر نامی کتاب کی کفری عبارتیں اور جھوٹے مدعی امام مہدی کا فتنہ
ہدیہ سلام وقدمبوسی عرض ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : ہمارے بنگال کی دھرتی پر ایک جگہ متھپارہ کے نام سے موسوم ہے، وہاں ایک آدمی اپنے آپ کو پیر کا دعویٰ کرتا ہے تقریباً ۴ / ہزار مرید بھی کر چکا ہے اور اس کا طریقہ تمام علمائے دین و اولیاء عظام کے خلاف جو کہ رمضان شریف میں بعد نماز مغرب کے افطار کرتا ہے اور اس کا کتاب چھاپ کر تقسیم بھی کرتا ہے اور وہ علم سیلی و جادو کے ذریعہ مریدوں کو پھانس کر رو پیہ لیتا ہے اور اُن کی بہو بیٹی کی عزت لوٹتا ہے، اس کے ساتھ ہی اپنے کو امام مہدی کا دعویٰ بھی کرتا ہے ، جس کے ثبوت کے لئے وہ کتاب آپ کو پیش کرتا ہوں، میری سمجھ میں کم علمی کی وجہ سے جو بن پڑا کتاب میں نشاندہی نمبر وار کیا ہوں اس کتاب پر حضور والا ایک نظر ڈال کر اس پر فتوی عنایت کریں تا کہ تمام اہلسنت پر احسان ہو اور تمام پیران عظام اس بھیانک
الزام سے بچیں کیونکہ یہ مردود اپنے کو سنی حنفی کہتا ہے بلکہ میلا داور قیام بھی کرتا ہے، اب کتاب وظیفہ کانمبر ملاحظہ فرمائیں۔ صفحہ ۴ پر حوالہ ار اس کا نام رفیق ہے صفحہ ۱۲ پر حواله ۲/ : اپنے کو رسول کا دعویٰ کیا ہے۔ صفحہ ۸/ پر حوالہ ۳/ : اپنا چار خلیفہ مقرر کیا ہے،اس کوخلیفہ اربعہ سے نوازا ہے۔ صفحہ ۹ر پر حوالہ ۴/ : اپنے کو رسول لکھا ہے۔ اب دوسری کتاب ” مرشدوں کی چادر“ کا حوالہ : صفحه ار پر حواله ار : محمد کے نام کو کاٹ کر مرشد لکھا ہے۔ صفحه ۵/ پر حواله ۲ : صوفی اذان کا چھی سے خلافت ملی نہیں ہے نقلی دعوئی ہے۔ صفحہ ۶/ پر حوالہ : وہ حدیث کا انکار کرتا ہے، یہاں پر حدیث کا لکھا ہے۔ صفحه ۱۶ پر حواله ۴ : ساری عبادت سے وظیفہ کو آگے کر دیا۔ صفحہ ۱۶ پر حوالہ ۵/ : اپنے کونور کہا اور خیر البشر لکھا گویا نبی کا دعویٰ کیا ہے۔ صفحہ ۷ ر پر حوالہ ۶ : اپنے پیغام کو خدا کا پیغام کہا ہے۔ عرض گزارش ہے کہ کچھ اس کے کر دار ملاحظہ ہو۔ (1) دوسگی بہن کو شادی کیا ہے بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ (۲) اس وقت اس کی چھ عدد بیوی موجود ہے۔ (۳) وہ اپنے مریدوں کو مرید کرنے کے بعد نماز روزہ معاف کر دیتا ہے۔ (۴) بلکہ وہ زانی بھی ہے، اپنے مریدوں کی بہو بیٹی سے زنا کرتا ہے، جادو کے ذریعہ۔ (۵) غریبوں ، یتیموں کو مرعوب کر کے اپنے سپلی علم کے ذریعہ ان کی جائیداد کو ہڑپ کرتا ہے۔ اس وقت اس کے مریدوں میں زلزلہ آیا ہوا ہے، کچھ لوگ حقیقت کو پاگئے ہیں اس لئے آپ کی خدمت میں فتوئی کے سوالی ہیں۔ حضور والا برائے کرم فتویٰ عنایت فرمائیں، مجھ کو پوری حقیقت اس کے یہ دونوں مرید بلکہ دونوں خلیفہ سے ملی ہے، جو وظیفہ کی کتاب کے صفحہ ۸/ پرخلیفہ ۲/اور خلیفہ ۴/ یہ دونوں