منہاج الحق نامی کتاب کے گمراہ کن نظریات، نماز اور کلمہ طیبہ کے متعلق سوال
ہوا، شیطان کا بھائی اور کا فرلکھتے ہیں۔ خود کی علمی صلاحیت مکتبی ہے پہلے فرنیچر پالش اور پینٹنگ کرتے تھے مگر اب عالموں کو برا بھلا کہہ کر پیری مریدی کرتے ہیں۔ کتاب جو ۳۵ ۳۶ پنوں ( ورقوں) پر مشتمل ہے اور ۱۹۸۲ء میں اسٹار پریس نعل بند محلہ جبیل پور میں چھپی ہے اسلام کے پانچوں ستونوں پر نئے انداز سے بحوالہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو کی ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمرہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو گفتگو کر رہے تھے ، مصنف کتاب منہا ج الحق سلطان پور کو بفیض روحانی حاصل ہوئی اپنی کتاب مذکورہ میں تحریر کیا ہے جس کی فوٹو کاپی ایک ورق کا حاضر خدمت ہے قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تا کہ لوگ گمراہی سے بچ سکیں۔ ایسی کتاب اور ایسے صوفیوں کے چکر میں آکر سیدھے سادے لوگ مرید ہو کر نماز وروزہ چھوڑ دیتے ہیں بعض یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اس میں کیا رکھا ہے اور روحانی نماز میں لگ جاتے ہیں بلکہ پیر صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”نماز خمسہ میں سے کسی ایک نماز کی پابندی کر نیوالے کو بے نمازی نہیں کہیں گے چاہے نماز پنجگانہ کا تارک ہو ایسے پیر کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا ان کے متبعین کے پیچھے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ (۲) ان تعبد الله کانک تراه فان لم تکن تراه فانه پراک“ کے تحت لکھتے ہیں کہ نماز پنجگانہ میں اگر نمازی کو مشاہدہ یا مراقبہ حاصل ہے تو نماز مقبول اور موجب فلاح دارین ہے اور اگر نماز اس شان کی نہیں تو بقول شخصے بر با دو گناه لازم یعنی اگر نماز پنجگانہ بغیر مشاہدہ و مراقبہ کے ہے تو بے سود اور برباد ہے کیا اس فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی مطلب ہے؟۔ (۳) کلمہ طیبہ کی حقیقت میں لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا: "ليس المومنون يجتمعون في المساجد ويقولون لا اله الا الله ، یعنی وہ مومن نہیں جو مسجدوں میں جمع ہوتے ہیں اور زبانی طور پر کلمہ لا الہ الا اللہ “ کہتے ہیں۔ اے عمر ایسے لوگ کوچۂ حقیقت سے بے بہرہ ہو گئے ہیں یہ مومن نہیں بلکہ منافق ہیں کیونکہ زبان سے لا اله الا اللہ" کا اقرار کرتے ہیں لیکن اصل معنی سے ناواقف ہیں انہیں خاک پتہ نہیں کہ کلمہ سے کیا چیز مقصود ہے نیت سے کیا مراد ہے؟ کیا ایسا شکی طور پر کلمہ کہنا شرک یعنی کفر ہے ایسے کلمہ گو کا فر کہلاتے ہیں کیونکہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ کلمہ میں کس کی نفی مراد ہے اور
کتابچہ کے صفحات ملاحظہ ہوئے ان میں من گڑھت بہت روایات اور کفریات درج ہیں اور فقہاء وعلماء کو بے دریغ کا فر و گمراہ کہا ہے بلکہ منھ بھر کے تمام نمازیوں کو کافر کہا ہے اور اباحت و استحلال محرمات و خلاف شرع کا دروازہ کھولا ہے۔ وہ شخص اور دانستہ اس سے مرید ہونے والے اور جان بوجھ کر اسے مقتدا و پیشوا بلکہ مسلمان سمجھنے والے کا فرو بے دین ہیں ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسوں سے دور رہیں انہیں خود سے دور رکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸ ذی قعده ۱۴۱۰ھ