یہ کہنا کہ خدا کوئی چیز ہے تو مجھے موت دیدے کیسا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ: عصر کا وقت تھا، عصر کی اذان ہو رہی تھی، ایک شخص نے کہا کہ خدا کوئی چیز ہے تو مجھ کو موت دے دے ورنہ خدا کوئی چیز نہیں ۔ میں سن کر چلا آیا۔ فقط
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب لا اله الا اله محمد رسول الله : ایسا کہنے والا کافر ہو گیا۔ تو بہ و تجدید ایمان کر کے پھر سے مسلمان ہو اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۴۴۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مصرعہ ”بہشت پیچ کے لے لوں دیار آزادی“ کی شرعی حیثیت اور اس پر مشاعرہ میں شرکت کا حکم
باب: کتاب العقائد
سجدہ تحیت کی حرمت اور اسے جائز سمجھنے والے کی بیعت کا حکم
باب: کتاب العقائد
آخر الزمان یا امام مہدی ہونے کا دعوی کرنے والے اور مشرکانہ افعال کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
نماز روزہ کے منکر کا حکم : قیامت تک نہیں مردونگا یہ کہنا کیسا ؟ ، کفر مزیل نکاح ہے!
باب: کتاب العقائد
لفظ "ہم ہندو ہیں" کہنا کفر ہے اور مدرسہ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا ناجائز و حرام ہے
باب: کتاب العقائد