لفظ "ہم ہندو ہیں" کہنا کفر ہے اور مدرسہ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا ناجائز و حرام ہے
ہم ہندو ہیں " کہنا معاذ اللہ اقرار کفر ہے! حضرت مفتی اعظم رہبر دین اس مسئلہ پر کیا فرماتے ہیں: میرے یہاں ۵ / ہندی اسکول ہیں اور اردو اسکول ایک بھی نہیں۔ لہذا ہم گاؤں والوں کے احتجاج پر گاؤں کا مکھیا گرام پنچائت کی ( زمین مسجد کے اتر طرف ) زمین مسجد کے سامنے اسکول بنانے کے واسطے دیا لیکن وہاں پر اسرافیل ولد شہد اور جن کا مکان ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ زمین ہم کوکھیتی باڑی کرنے کو دیں۔ یہاں پر مدرسہ نہیں بنے گا۔ اس وجہ سے وہ بھی اسرافیل سے ملے ہوئے تھے۔ جب گاؤں والوں کو پتہ چلا تو وہ پیسے کا حساب مانگنے لگے اس پر زین العابدین فرماتے ہیں کہ کیا پیسہ؟ وہ زمین اسرائیل کو ہی ملنا چاہئے۔ اسرائیل کہتے ہیں کہ مدرسہ کسی بھی حالت میں نہیں بنے گا۔ ہم ہندو ہیں۔ مسلمانوں کے مدرسہ سے یا مسلمانوں سے کوئی تعلقات نہیں ہے۔ لہذا ہم گاؤں کے مسلمان یہ عرض کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں دین اسلام سے کیا حکم ہوتا ہے؟ ہم مسلمانوں کے واسطے؟ فقط والسلام علیکم المستلتق محمد رضاء الدین، بڑا کی بازار دیور یا مدرسہ کمیٹی
الجواب: اسرائیل نے بہت سخت کلمہ ملعونہ کہا اس پر تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ یہ کہنا کہ "ہم ہندو ہیں معاذ اللہ قرار کفر ہے اور اس کی یہ سعی کہ وہاں مدرسہ نہ بنے ناجائز وحرام ہے۔اس کا ساتھ دینا گناہ ہے۔ زین العابدین پر اس سے تو بہ لازم ہے اور روپیہ جو مسلمان سے لیا، واپس کرنا ضرور۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ ذیقعده ۱۳۹۸ھ