اذان دینے کو شور مچانا کہنا کیسا؟ اور کھال کا روپیہ مسجد میں دینا کیا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته\nکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:\nزید نے قربانی کی کھال کے پیسے ایک غریب رانڈ بیوہ کو دے دیے تھے چند روز کے بعد کچھ\nآدمیوں نے بستی میں پنچایت کی اور اس پنچایت میں زید کو ہلایا اور کہا کہ تم کو کھال کے پیسے مسجد میں دینا\nہے اس پر زید نے جواب دیا کہ میں نے غریب بیوہ کو دے دیے ہیں۔ پھر اسی پنچایت کے ایک آدمی\nنے کہا کہ مسجد میں شور مچانے کیوں چلے آتے ہو۔ زید نے کہا کہ میں کیا شور مچاتا ہوں ۔ پھر زید کو جواب\nدیا کہ اذان دیتے ہو یہ شور مچاتے ہو۔ لہذا اذان کی شان میں یہ گستاخیاں کرنی کیسی ہیں؟ شریعت کے حکم\nسے جواب دیں اور غریب رانڈ سے پیسہ واپس لے کر مسجد میں لگانا کیسا ہے؟ یہ دونوں سوال کا جواب\nشریعت کے حکم کے مطابق تحریر فرمائیں۔\nمستفتی: خاکسار عبدالوحید وعبدالله، حمله مولا نگر، بریلی شریف
الجواب:\nبر تقدیر صدق سوال اذان کو شور مچانا بتانے والوں پر تو به تجدید ایمان لازم و تجدید نکاح بھی لازم\nہے اگر بیوی رکھتے ہوں۔ اور کھال اس بیوہ سے جبر الیا تو یہ فعل حرام بد کام بدانجام ہے۔ اس سے بھی تو بہ\nلازم ہے اور اگر اس نے بہ خوشی دے دیا تو الزام نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم\nفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله