روزے کا مذاق اڑانا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ: زید و عمر و دونوں نے رمضان شریف میں ایک دن روزہ رکھا اتفاق سے اس دن گرمی زیادہ ہوگئی سورج ڈوبنے پر افطار کے بعد زید نے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک لگا کر عمر سے کہا آج سے روزہ رکھنے سے تو بہ کی عمر و نے کہا اب ایسا کرو روزہ رکھنے سے باز آؤ زید و عمرو کی ان باتوں پر جو رشتے دار شادی شدہ و غیر شادی شدہ وہاں جمع تھے خوب قہقہہ لگا کر ہنستے رہے زید و عمرو کہ شادی شدہ ہیں اور ان کے عزیزوں کے بارے میں جو وہاں موجود تھے اور ہنس رہے تھے کیا حکم شرع ہے؟ بیان کیا جائے۔ فقط۔ المستفتی محمد وسیم، محله اشرف خاں، پیلی بھیت ۹ /رجب المرجب ۱۴۰۶ھ
الجواب: اس شخص پر تو بہ لازم ہے اور جو لوگ اس کی بات پر ہنسے وہ بھی تو بہ کریں اور وہ شخص تجدید ایمان بھی کرے کہ تو بہ معصیت سے ہوتی ہے نہ کہ طاعت سے اور روزہ طاعت ہے تو تو بہ کا استعمال اس محل میں تو بہ کی توہین کا مشعر ہے اور اس پر اٹھک بیٹھک لگانا روزہ کا اس کے نزدیک قابل جرم ہونا ظاہر کرتا ہے اور وہ لوگ بھی تجدید ایمان کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری ۲۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۶ھ تجدید ایمان کا حکم بر بنائے احتیاط ہے واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی