میں خدا اور سول کو نہیں جانتا کہنا کفر ہے
زید اور اس کی بیوی کے درمیان کچھ اس طرح کا تنازعہ ہے کہ زید کی بیوی اس کے ساتھ رہنا گوارہ نہیں کرتی اور وہ اپنی طلاق چاہتی ہے زیادہ اصرار کے بعد محلہ یا بستی کے لوگوں نے زید سے کہا کہ روز روز کی الجھنوں سے کیا فائدہ تم اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ چلاتے ہو اور کبھی وہ تمہارے خلاف کچہری میں پہنچتی ہے۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے اس لئے تم خدا و رسول کے واسطے ایسی بیوی کو طلاق دے دو۔ زید کہتا ہے کہ میں خدا اور سول کو کچھ نہیں جانتا لوگوں نے زید سے کہا او بندہ خدا تو بہ کر زید تو بہ سے بھی منکر ہو گیا اس کی بات سن کر لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے زید نے آج تک تو بہ نہیں کی ہے عرصہ تقریباً دو سال کا ہو چکا کرم فرما کر جواب سے مطلع فرمائیں۔ المستفتی : نواب علی سرولی آنولہ، بریلی شریف
الجواب: زید کا خط کشیدہ جملہ کفریہ ہے اگر یہ سچ ہے کہ زید نے یہ جملہ بولا تو وہ بلا شبہ کا فر ہو گیا اور بیوی اس کے نکاح سے باہر ہوگئی۔ در مختار میں ہے: ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح واولاده أولاد زنا ومافيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح اه ) واللہ تعالیٰ اعلم تو به تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد محسین رضا غفرلہ الدر المختار باب المرتد، ج ۶، ص ۳۹۰، دار الكتب العلمية، بيروت ۷ رمضان ۱۳۹۹ھ