پیر کو اللہ ماننے اور اسے معبود قرار دینے والے کے کفر اور اس کے ساتھ شرعی حکم کا بیان
زید صاحب طریقت بزرگ بکر کا مرید ہے جو ہوش وحواس میں رہ کر پنجگانہ نمازوں کو ادا کرتا ہے نیز فریضہ حج بھی ادا کر چکا ہے اس کے بیوی بچے بھی ہیں اور وہ کاروباری بھی ہے اپنے احباب اپنے بال بچوں اپنے رشتہ داروں نیز اپنے کاروباری بھائیوں میں با قاعدہ ہوش وشعور کی گفتگو کرتا ہے اور ہر معاملہ کو بڑی سوجھ بوجھ سے حل کرتا ہے لیکن اپنے پیر کے متعلق اس کے الفاظ یہ ہیں : ”اللہ تعالیٰ دل کی بات جانتا ہے میرے حضرت ( پیر ) بھی میرے دل کی بات جانتے ہیں۔ اسلئے یہ میرے اللہ اور میں ان کو اپنا اللہ مانتاہوں“ عند اللہ شرعی احکام سے جلد نوازیں ایسے شخص سے میل محبت رکھنا کیسا ہے؟ اور مندرجہ بالا الفاظ جو زید نے ادا کئے ہیں شریعت کی نظر میں کیسے ہیں اور قرآن وحدیث کے اس پر کیا احکام ہیں ۔ جواب تفصیل سے قرآن وحدیث کی روشنی میں دیں۔ المستفتی خلیق الرحمن ، چمن گنج، کانپور
الجواب: زید اپنے پیر کو اللہ کہہ کر مان کر کافر مرتد بے دین ہو گیا۔ اللہ اسم خاص بہ خدائے یکتا ومعبود برحق ہے۔ کسی کو اللہ کہہ دینا ہی کفر ہے ۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: ثم قال لواحد من الجبابرة يا اله او يا الهى كفر ، اقول وانما قيدبكونه من الجبابرة لانه يكفر مع انه من ارباب الاکراہ فغیرہ بالاولی (۱) کسی مخلوق کو اگر چہ نبی ہوا گر چہ فرشتہ ہو کیونکر کر نہ ہوگا۔ بلاشبہ یہ کفر ہے اور ایسا عقیدہ رکھنے والا قطعی اجماعی کافر ہے۔ زید پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح ( اگر شادی شدہ ہو ) فرض ہے جب تک وہ از سرنو کلمہ اسلام پڑھ کر مسلمان نہ ہو جائے اس سے ہر واقف حال کو قطع علاقہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۲۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) منح الروض الازهر شرح الفقه الاكبر ، فصل في الكفر صريحا و كناية، ص۳۱۵،۳۱۶، دارالایمان