تحسین کفر کفر ہے، رام رام تحیت کفار ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زید کے ان اشعار کے بارے میں جن کے متعلق زید نے اپنا مافی الضمیر بھی ذیل میں درج کر دیا ہے۔ شعرا : حرم کی راہ میں اے شیخ جی بڑا کیا ہے ۔ جو اس صنم کو بھی میں رام رام کرتا چلوں زید شاعرانہ انداز میں شیخ سے پوچھتا ہے کہ حرم کی راہ میں اگر اک صنم ( دنیاوی محبوب ) کو رام رام (سلام) کرتا چلوں تو کیا بُرا ہے۔ شیخ جی کا جواب اور زید کا وہ عمل کہ اس نے دنیاوی محبوب کو سلام کر لیا شعر سے ثابت نہیں ہوتا۔ رام رام منم کی رعایت سے لکھا گیا اور مصنم کو پوجنے کی بات نہیں پوچھی گئی۔ زید کے خواب و خیال میں بھی صنم اور رام کی عقیدتمندانہ اہمیت نہیں۔ - شعر ۲: نظر حجمی مری قرآن پر نہ گیت پر ۔ کسی کے رخ کی مقدس کتاب کے آگے زید کے مافی الضمیر میں مدینۃ العلم سرکار دو عالم کا چہرۂ مقدس ہے چہرے کو کتاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ قرآن شریف مسلمانوں کی اور گیتا ہندؤوں کی مذہبی کتاب ہے۔ زید ہندؤوں اور مسلمانوں دونوں للمعلمين محبوب ارحم الراحمین کا رخ انور اتنا مقدس اور حقیقت آفریں ہے کہ اس کے سامنے میری نظر دنیا کے کسی مذہب کی بڑی سے بڑی اہم کتاب پر نہیں جھی۔ شعر س: ہمارے دور کے بھارت کو وہ نصیب کہاں ۔ بھرت نے بھی تھی جو رام راج کی عزت زید کے ذہن میں محض ہندوستانی سیاست ہے آج کل کے نیتا رام راج لانے کی بات کرتے ہیں
الجواب: تاویلات دور از کار ملاحظہ ہوئیں۔ رام رام تحیت کفار ہے اور کفری بولی بولنا کفر۔ ہدیۃ المہتدین ،، چلپی میں ہے: ”موافقة الكفار في اقوالهم وافعالهم وايامهم الخاصة كفر (۱) اور کفر کی تحسین خود کفر اور وہ اس کے قول ” بُرا کیا ہے“ سے ظاہر اور قرآن اور گیتا کو ایک پلے میں رکھنا اس کے مصرعہ اولیٰ سے ظاہر ہے اور یہ پہلوئے کفر ہے اور کافر تو کافر ہے فاسق کی ستائش بھی حرام ہے اور تیسرے شعر میں وہ کافر کی ستائش اور صریح تعظیم سے عہد کفر کا مرتکب ہوا۔ زید پر حکم شرعی یہ ہے کہ تو بہ وتجدید ایمان کرے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶/ذیقعده ۱۴۰۱ھ