شرعی ذبحہ کو مینہ اور قربانی کو قتل عام کہنے والے کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید بظاہر مسلمان تھا نماز وروزہ کا پابند تھا لیکن مشہور تھا کہ وہ دیو بندی عقیدہ کا تھا اور اس شہرت کا اس کو علم بھی تھا کہ لوگ اس کی طرف سے ایسا خیال کرتے ہیں لیکن اس نے کبھی کسی سے اپنے متعلق اس شہرت سے انکار نہیں کیا کچھ شاہد ایسے ہیں جن کے سامنے اس نے چاروں کلے پڑھے اور یہ کہا کہ میرا وہی عقیدہ ہے جو اہل سنت و الجماعت کا ہے لیکن وہ کبھی کسی سنی عالم سے کوئی ربط و تعلق نہیں رکھتا تھا ایسا بھی مشہور ہے کہ اس نے فاتحہ اور عرس میں بھی شرکت۔ کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ ذبیحہ میتہ ہے اور مسلمان جانوروں کو ذبح کر کے بڑا ظلم کرتے ہیں جس کے بہت سے شرعی گواہ موجود ہیں۔ ایک شخص کے سامنے اس نے کہا کہ آج عید الاضحی کا دن ہے مسلمان عید کی نماز کے بعد قتل عام میں لگ جائیں گے ( یعنی قربانی کو قتل عام کہتا تھا ) اس سے بہتر تھا کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ایک شخص سے کہا کہ مسلمان بکری پالتے ہیں اس کا دودھ لے لیتے ہیں کہ اس سے زیادہ ظلم یہ کرتے ہیں کہ اس کو ذبح کر دیتے ہیں۔ ایک شخص کے سامنے اس نے کہا کہ مسلمان حج کرنے جاتے ہیں وہاں لاکھوں جانوروں کو بے وجہ کاٹ ڈالتے ہیں جن کو چیل اور کوے بھی نہیں کھاتے اس حج سے کیا فائدہ۔ ایک شخص کے سامنے اس نے کہا کہ مچھلی اور کوئی بھی جاندار جانور کو کھانا نہیں چاہئے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ زید نے اپنے مذکورہ عقائد سے کسی کے سامنے کبھی بھی تو بہ نہیں کی جب زید کی موت ہو گئی تو بہت سے لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے اجتناب کیا لیکن کچھ لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید نے ذبیحہ کے متعلق جو عقائد ظاہر کئے وہ کس حکم میں ہیں کیا ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اور جن لوگوں نے نماز پڑھی ان کے لئے کیا حکم ہے؟ کچھ لوگ ایک استفتاء کو لے کر بریلی آئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا جواب ان کو یہ ملا کہ ایسے عقائد والے کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ استفتاء دیکھنے کو ت نہیں ملا لیکن معلوم ہوا کہ اس پر کوئی مہر نہیں
الجواب: فی الواقع اگر یہ تمام باتیں جو درج استفتاء ہوئیں عدول کی شرعی شہادت سے ثابت ہیں تو وہ شخص ہرگز مسلمان نہ تھا بلکہ اہانت شرع مبین سے کافر و مرتد بے دین ہوا۔ اور بے تو بہ علانیہ مرا تو عند الشرع کافر مرتد و بے دین مرا اور اس کی نماز جنازہ واقفان حال پر حرام بلکہ کفر ۔ درمختار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما اخبر به (۱) اور مرتد کا محض کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں جب تک کہ کفریات سے تبری ظاہر نہ کرے۔ در مختار میں ہے: وو و اسلامه ان يتبرء عن الادیان سوى الاسلام او عما انتقل اليه بعد نطقه بالشهادتين وتمامه فى الفتح ولو اتى بهما على وجه العادة لم ينفعه ما لم يتبرع “(۲) مزید ردالمحتار میں ہے: دو يوخذ من مسئلة العيسوى ان من كان كفره بانکار امر ضروری كحرمة الخمر مثلا انه لا بد من تبرئه مما كان يعتقده لأنه كان يقر بالشهادتين معه فلابد من تبرئه منه كما صرح به الشافعية-اه‘ (۳) لہذا جبکہ نہ اس نے خود براءت ظاہر کی نہ اس کے کفریات اس پر پیش کئے گئے کہ کھلتا کہ اب جو کلمہ پڑھا وہ بہ نیت تجدید ایمان پڑھا تو محض چهار کلمہ خوانی اور اس ادعاء مذکور سے بے تبری و بے تکفیر دیو بندیاں اس کو نی صحیح العقیدہ نہ سمجھ لیا جائے گا۔ جنہوں نے دانستہ اس کی نماز جنازہ پڑھی سخت گناہگار ہوئے تو بہ کریں اور تجدید ایمان بھی کر لیں اور بریلی سے ایسے عقائد والے کی نماز جنازہ کی حلت کا فتویٰ ہرگز کسی نے نہ دیا ، یہ افتراء ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۳۰ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ بہاءالمصطفیٰ قادری