خود کو وہابی کہنا، مذاق میں کفر بکنا اور وہابی کی نماز جنازہ و فاتحہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (1) زید اپنی زندگی میں کہتا تھا کہ میں وہابی ہوں اور مولوی زکر یا شیخ الحدیث دیو بند سے مرید ہوں۔ جنکے ہاتھ سب لوگ مرید ہیں انہیں میں عالم بھی سمجھتا ہوں ۔ اس کے لئے شرعی کیا حکم ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ مذاق کیا کرتا تھا یا سنیوں کو چڑھانے کے لئے ایسا کہتا تھا۔ (۲) ایسے شخص کی نماز جنازہ یا فاتحہ چہلم میں (جو اسکے لڑکے نے کرایا ) جو لوگ ان باتوں کو جانتے ہوئے شریک ہوئے ان کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ المستفتی : غلام نبی ،کانگیر
(۱، ۲) وہ اقراری وہابی ہو کر کافرین میں ہو گیا کہ وہابی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فر ہیں اور کافر کا اقرار کافی ہے۔ ہندیہ میں ہے: وقد حكى عن بعض اصحابنا ان رجلا لو قيل له : ألست بمسلم؟ فقال: لا، يكون ذالك كفرا کذافی فتاوی قاضیخان (۱) اسی میں ہے: "رجل قال: لامرأة ياكافرة يايهودية يامجوسية فقالت: (همجنینم) او قالت (همجنینم طلاق ده مرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کفرت‘(۲) اور یہ عذر کہ وہ مذاق میں ایسا کہتا تھا، کفر سے مانع نہیں کہ مذاق میں کفر بکنا بھی کفر ہے۔ یہی ہندیہ میں ہے اور اس کی نماز جنازہ اور اس کے لئے فاتحہ پڑھنا دعائے استغفار کرنا حرام بدکام کفر انجام ۔ ردالمحتار میں ہے: الدعاءبالمغفرةللكافركفر لطلبه تكذیب الله تعالى فيما أخبر به ‘‘(۳) ان لوگوں پر تو بہ فرض اور تجدید ایمان بھی کریں اور بیوی رکھنے والے تجدید نکاح بھی کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والعجیب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲ ؍ ربیع النور ۱۴۰۶ھ الفتاوى الهندية، كتاب السير الباب التاسع في احكام المرتدين موجبات الكفر انواع، ج ۲، ص ۲۸۸، دار الفکر بيروت الفتاوى الهندية، كتاب السير الباب التاسع في احكام المرتدين موجبات الكفر انواع، ج ۲، ص ۲۸۸، دار الفکر بيروت رد المحتار، مطلب في الدعاء المحرم ، ج ۲، ص ۲۳۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت