اسلام اور علمائے اہل سنت کی توہین، علم غیب کا انکار اور بد مذہبوں کی حمایت کا حکم
(1) کسی ایک شخص کا وہابی ہونا ثابت ہے ایک موقع پر سوکھا ( قحط ) پڑا تھا تو گاؤں کے لوگ نعرہ لگاتے ہوئے میدان میں جارہے تھے جب نعرہ لگایا اسلام زندہ آباد تو اس شخص نے کہا مردہ آباد دوسر انعرہ لگا یا علمائے اہل سنت زندہ آباد تو اس شخص نے کہا تھا مردہ آباد۔ (۲) علم غیب کے بارے میں کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وعلم غیب نہیں تھا۔ قرآن وحدیث سے ثابت کیا گیا تو کہا ہم نہیں جانتے ہیں۔ (۳) گاؤں میں ایک امداد یہ اسکول چل رہا ہے جس میں بچے قرآن پاک کی تعلیم پاتے ہیں تو اس نے کہا کہ میں ان کے ساتھ یعنی سنی کے ساتھ نہیں۔ نیز اور کچھ نہ کر سکا تو جہاں سے گاؤں کے اسکول کو امدا وملتی ہے اس نے خط بھیج کر چندہ بند کرادیا۔ لہذا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے اور ایسے شخص سے میل جول رکھنے والوں کے لئے کیا حکم شرعی ہے؟ (۴) ایک شخص جو سنی جماعت میں ہے اور کبھی بھی امام کے نہ ہونے پرنماز بھی پڑھا دیا کرتا ہے وہ اکثر یہ کہا کرتا ہے کہ اللہ جانے ہم صحیح ہیں یا وہابی مسیح ہیں اور کبھی کبھی دہانی کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتا ہے۔ ایک دن ایک آپسی جھگڑے کی بنا پر اس نے اپنے بھائی سے کہا چھوڑ واہل سنت انت کو چلو اس مسجد میں ( جو وہابیوں کی مسجد ہے ) ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ المستفتی: محمد عاشق حسین در یاض احمد
الجواب: (۱، ۲) بر تقدیر صدق سوال اسلام کو مردہ آباد اور علمائے اہل سنت کو مردہ آباد کہنے والا کافر مرتد بے دین ہے اور جوسرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام سے علم غیب کی نفی کرے وہ بھی کافر ہے کہ تکذیب قرآن مبین و انکار ضروریات دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس سے اس کی وہابیت اور سنی دشمنی خوب ظاہر ہے سنی اس سے پر ہیز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) شخص سنی صحیح العقیدہ نہیں بلکہ کھلا بد مذہب گرا و صریح وہابی ہے اس کے پیچھے نماز ہرگز درست نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ