کلمه کفر سن کر با وصف قدرت نہ ٹوکنا کفر پر راضی رہنے کی دلیل ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید اور بکر دونوں عالم دین کہلاتے ہیں۔ زید ایک محفل میں میلا د شریف پڑھ رہا تھا جس میں بکر بھی شریک ہوا۔ زید کہتا ہے کہ بکر نے اپنی تقریر میں ایک کلمہ کفر کہہ دیا ہے لیکن بجائے یہ کہ زید بکر کی گرفت کرنے کے بعد تو بہ کرواتا سکوت اختیار کیا اور ولید نے محفل ختم ہونے کے بعد بتایا کہ بکر کلمہ کفر بک چکا ہے ولید نے زید سے کہا کہ زید نے جو کلمہ کفر سن کر خاموشی اختیار کی ہے اس پر انہیں تو بہ لازم ہے بلکہ تمام حاضرین سے تو بہ کروانا چاہئے تھا عمرو بھی شریک محفل تھا لیکن اسے یاد نہیں کہ بکر نے کوئی کلمہ کفر بکا ہو۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید جس نے بکر کے بارے میں یہ کہا کہ بکر نے کلمہ کفر بکا ہے تو اس پر تو بہ وغیر ولازم ہے یا نہیں ؟ جواب تحریر فرمائیں۔ المستفتی: محمد حسیب الرحمن مدرسه عربیه قادریه تجوید القرآن ۳۵ / فیل خانہ فرسٹ لائن ہوڑہ بنگال
الجواب: اگر واقعہ یہ ہے کہ زید کو اس کلمہ کے معنی کفری پر اس مجمع میں اطلاع ہو گئی تھی اور اسے غالب گمان یہ تھا کہ بکر اس کے ٹوکنے سے تو بہ ورجوع کرے گا اور کوئی فساد وشر نہ ہوگا تو اسے اسی مجمع میں ٹوکنا لازم تھا۔ اس صورت میں زید نے امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے فریضہ کو چھوڑا اس سے اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے کہ زید کا با وصف قدرت نہ ٹوکنا بکر کے کفر پر راضی رہنے کی دلیل ہے اور اگر زید کو قدرت نہ تھی تو اس پر تو بہ لازم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ رمحرم الحرام ۱۴۱۹ھ