کسی مسلمان سے یہ کہنا کہ " تم مسلمان نہیں ہو " کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید میں اور ہندہ میں جھگڑا ہوا، زید نے بیوی کو مارا، اسی اثناء میں زید کا بھائی آیا اس نے زید کو مارا اور کہا کہ کیوں مارتا ہے؟ زید نے کہا کہ ہندہ نے مجھے ایک ہاتھ مارا ہے، میں اس کو ماروں گا ، اس نے ایسا کیوں کیا ، اسی بات کے کہنے پر زید نے قسم قرآن کہا کہ میں صحیح کہتا ہوں ، اسی پر زید کے بھائی نے کہا کہ مجھے تیرا یقین نہیں ہے، اس پر زید نے کہا کہ تم مسلمان نہیں ہو، اس پر زید نے اپنے بھائی کو خوب مارا اور کہا کہ تو بہ کرو ۔ اور اس سے اپنا تعلق ختم کر دیا ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید یا زید کے بھائی کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ جواب سے مستفیض فرما ئیں ۔
الجواب: فی الواقع اس شخص پر تو بہ لازم ہے جس نے سنی صحیح العقیدہ سے کہا کہ تم مسلمان نہیں ہو جبکہ شدت غضب میں بہ طور گالی کہا ہو پھر اگر یہ مراد ہو کہ واقعی مخاطب خارج از اسلام ہے تو کفر ہے جب تو تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله