عقیدہ سے لا تعلقی کا اظہار اور تبلیغی جماعت کی ہمنوائی کا شرعی حکم
فرما کر مطمئن فرمائیں تا کہ لوگوں کے دل سے کدورت صاف ہو۔ عین نوازش ہوگی ! محمد شفیق میر صاحب ۴۱، ڈاکٹرالیں۔کے۔ چڑ جی ، پوسٹ بہار مٹھ ، ہوڑہ
الجواب: اس کا یہ کہنا کہ عقیدہ سے ہم کو کوئی مطلب نہیں، اپنے منہ اپنے کفر کا اقرار کرنا ہے۔ پھر اللہ و رسول پر ایمان کا دعویٰ محض افترا ہے جسے عقائد اہل سنت ( کہ جن میں خدا اور سول کی اہانت لکھنے چھاپنے والے دیو بندیوں کو کا فرجانا مانا بھی شامل ہے) سے مطلب نہ ہو وہ ہرگز خدا ورسول پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوگا۔ اور اس کا یہ کہنا کہ تبلیغی جماعت والے جب کلمہ پڑھانے چلتے ہیں۔ الخ یہ تبلیغی جماعت کی کھلی ہمنوائی ہے۔ اور تبلیغی جماعت دیوبندیوں کے مذہب کی مبلغ ہے۔ چنانچہ مولوی الیاس نے اپنے ملفوظات میں کہا: ”مولانا اشرفعلی تھانوی نے بڑا کام کیا میرا دل چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی ہو۔ الخ اور یہ اشرفعلی وہ ہے جس نے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم کے متعلق حفظ الایمان میں لکھا: ایسا علم تو ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے (1) اس عبارت پر علمائے حرمین نے اسے ایسا کافر و مرتد کہا کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (۲) تو تبلیغی جماعت کو کافر کہنا درست ہے۔ اور یہ جو کہا کہ مشرک کہتے ہیں، افترا ہے۔ ہم انہیں مشرک نہیں کہتے یہ الزام تو بات بات پر وہابیہ ودیو بند یہ اہل سنت پر دھرتے ہیں جیسا کہ تقویۃ الایمان و بہشتی زیور وغیرہ سے واضح ہے، وہ شخص دیو بندیت سے تائب ہوکرسٹی بنا تو ٹھیک ورنہ اس کے ساتھ مرتدین کا سلوک کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱/ جمادی الاخری ۱۳۹۹ھ (1) حفظ الایمان ص ۱۵ ، دار الکتاب (۲) حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مع الترجمہ ، ص ۹۰ رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ )