مصرعہ ”بہشت پیچ کے لے لوں دیار آزادی“ کی شرعی حیثیت اور اس پر مشاعرہ میں شرکت کا حکم
ایک ادبی ادارہ کے زیر اہتمام بہار یہ مشاعرہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مشاعرہ طرحی ہے جس کا مصرعہ طرح ” بہشت پیچ کے لے لوں دیار آزادی منتخب کیا گیا ہے۔ (1) مذکورہ بالا مصرعہ طرح شرعی اعتبار سے مناسب ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ مصرعہ میں انگریزی سامراج کی غلامی سے آزادی کے حصول کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ (۲) کیا بہشت جو اللہ تبارک و تعالیٰ کا مسلمین ومؤمنین کیلئے ایک بے بہا عطیہ ہے اور جو اسکی رحمت وکرم پر منحصر ہے اسکو کسی بھی قسم کی آزادی کے عوض بیچنے کا تصور یا مخیال جائز و برحق گردانا جا سکتا ہے؟ (۳) متذکرہ ادبی ادارہ جس کے منتظمین واراکین ہندو مسلمان دونوں ہی مذاہب کے ماننے والے ہیں ایسی صورت میں مسلمان اراکین اگر اس مشاعرہ کے انعقاد میں معاونت کریں۔ شریک ہونے والے پر راضی ہوں تو کیا حکم شرع عائد ہوتا ہے؟ (۴) اگر یہ مصرعہ طرح کسی مسلمان کی جانب سے پیش یا متعین کیا گیا ہے تو کیا حکم ہے؟ (۵) اگر مشاعرہ کا انعقاد اسی مذکورہ مصرعہ طرح پر ہی عمل میں آئے تو متذکرہ ادارہ کے مسلم اراکین کو مشاعرہ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے یا نہیں؟ المستفتی: اخلاق احمد صدیقی چک محمود، پرانه شهر، بریلی
الجواب: (۲۰۱) مصرعہ مذکورہ سخت خلاف شرع ہے اس کا صریح حاصل دیار آزادی جو کہ فانی اور کافر مسلم کی مخلوط آبادی ہے اس کی بہشت پر ( کہ دارالقرار و آرام گاہ مومنین ہے ) فضیلت یا دونوں کا ایک دوسرے سے علی الاقل مساوی ہونا ہے اور ظاہر سیاق دیار آزادی کی بہشت پر تفضیل ہے اور یہ دونوں مفہوم کہ مصرعہ سے مستفاد ہوئے کفری ہیں۔ اگر معاذ اللہ شاعر کی یہی مراد ہے تو قطعا قائل کا فر ہے۔ اور تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح ( بیوی والے پر ) بہر حال فرض ہے۔ یہاں سے ظاہر کہ اس خیال کو برحق جاننا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۳) معاونت و شرکت حرام اور مفہوم شعر مذکور سے راضی رہنے کا حکم ارقام بالا سے معلوم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ضرور بائیکاٹ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم