سجدہ تحیت کی حرمت اور اسے جائز سمجھنے والے کی بیعت کا حکم
صوفی کلیم اللہ صاحب محکر پھلیا قصبہ دو حد ضلع پونچ محال گجرات اپنے مرتب کردہ شجرہ نامہ (مطبوعہ اجمل پریس ممبئی ۔ ۳) ص ۱۵ پر چند نصائح برائے تعلیم مریداں تحریر فرماتے ہیں : بشرط یہ کہ مسجود صنم یعنی بت نہ ہو سجدہ تحیتہ بمنزل سلام جائز ہے اس بات سے واقف رہنا چاہئے کہ خانقاہ کے اندر شیخ کو جس طرح سلام کرنا جائز ہے اسی طرح سلام کی نیت سے سجدہ کرنا جائز ہے۔شریعت مطہرہ ایسے شخص کے لئے کیا کہتی ہے؟ کیا ایسے پیر کی بیعت درست ہے؟ اور ان کے مریدین کو اب کیا کرنا چاہئے؟ جواب باصواب سے ممنون و مشکور فرما کر اس گمراہی کو دور فرما دیں ۔ والسلام الداعی منتظر الجواب: عبدالقیوم بہاری پیش امام مسجد قصبہ کھیل ضلع اندور ، ایم۔ پی
الجواب: ہماری شرع مطہر میں بزرگوں کو سجدہ تحیت حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَيكَةَ وَ النَّبِينَ أَرْبَابًا، آيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ ) یعنی اللہ تمہیں حکم نہیں دیتا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو خدا بنا لوتو کیا تمہیں کفر کا حکم دیگا اس کے بعد کہ تم مسلمان ہو چکے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس لئے اتری کہ صحابہ کرام نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے آنحضور علیہ السلام کو سجدہ کرنے کی اجازت مانگی تو اس آیت کریمہ سے سجدہ تحیت کی ممانعت فرمادی گئی ۔ اور مسجد کا تحیت کی حرمت قطعی ہے۔ لہذا سجدہ تحیت کو جائز جانا کفر ہے اور جو جواز عہد کا تحیت کا معتقد ہے اس کی بیعت درست نہیں۔ مریدین پر فرض ہے کہ کسی سنی صحیح العقیده عالم باعمل ماذون و مجاز بیعت وارشاد کے ہاتھ پر بیعت ہو جائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ