نماز روزہ کے منکر کا حکم : قیامت تک نہیں مردونگا یہ کہنا کیسا ؟ ، کفر مزیل نکاح ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید ایک عمر رسیدہ اور جذباتی شخص ہے جس کی عمر فی الحال ۶۵ سال کی ہے۔ اس کی بیوی ہندہ بھی ۵۵ سال عمر کی ہے ان دونوں سے ۵ عدد بچے بھی ہیں اور بڑالڑ کا عمر ۱۷ار یا ۱۸ / برس کا ہے۔ زید اپنے آپ کو ایک مستان کہتا اور کہلواتا ہے اور یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کو نماز اور روزہ معاف ہو چکا ہے۔ اور وہ قیامت تک نہیں مرے گا۔ فطرۃ زید ایک جاہل اور الہر شخص ہے جو باتوں باتوں میں اپنی بیوی ہندہ اور بچوں سے لڑتا جھگڑتا اور بُرے الفاظ میں گندی گالیاں بکتا ہے اور بہت ہی بیدردی سے ان سکھوں کو مارتا پیٹتا بھی ہے۔ مہینے روز ہوئے زید نے اپنی بیوی کو ایک گھریلو معاملے کی بنا پر بیدردی سے پیٹا یہاں تک کہ وہ کئی گھنٹہ بے ہوش رہی بعدہ زید نے بیوی کی عدم موجودگی میں دو مسلمان مرد اور کچھ ہندؤوں کی حاضری میں کٹک والی طلاق طلاق طلاق کہہ کر طلاق دے دی۔ واضح ہو کہ اس کی بیوی ہندہ کٹک شہر کی لڑکی ہے جسے وہ کٹک والی کہہ کر پکارتا ہے۔ در ایں اثنا اس نے بحالت غصہ اپنے لڑکے عمرو کو اپنی والدہ کو بچانے کی کوشش پر یہ کہتے ہوئے فرزندی سے تابک کیا کہ جامیں نے تجھے اپنی فرزندی سے تابک کیا اور میری جائیداد میں تیرا کوئی حق نہیں رہا۔ (1) زید کی یہ حرکت کیسی ہے؟ قیامت تک زندہ رہنے کا اور اس پر نماز اور روزہ معاف ہونے کا دعویٰ کیسا ہے؟ کیا زید اب بھی مسلمان با ایمان رہا؟ اور اس کی وفات پر اس کا جنازہ اٹھانا اور نماز جنازہ پڑھنا لازم ہوگا۔ اگر کوئی شخص اس کی اس حرکت کو جانتے ہوئے بھی اس سے دینی تعلق بنائے رکھے تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) کیا عمر زید کی فرزندی سے تابک ہو چکا جو جائیداد زید نے ورثہ میں اپنے والد عزیز سے پایا ہے اس موروثی جائیداد پر عمر کا حق باقی رہے گا یا نہیں؟ (۳) کیا ہندہ کو اپنی عدم موجودگی میں زید کے طلاق کہنے پر طلاق ہو گئی؟ احقر عبدالجبار خاں ، جنگت سنگھ پور ضلع کٹک، اڑیسہ
الجواب: (۱، ۲، ۳) زید کے اقوال مذکورہ بلا شبہ کفریہ ہیں وہ صراحۃ نماز وروزہ کی فرضیت کا منکر ہے ۔ اور قیامت تک نہیں مریگا میں ظاہر پہلو انکار موت اور ادعائے ہمیشگی ہے اور یہ کفر ہے کہ "كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوت کا انکار ہے۔ زید پر تو به وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے ورنہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے اور اگر وہ حالت کفر میں مرے تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ بحکم فقہاء کفر ہے اور بیٹے کو جائداد سے محروم کرنا شرعاً کوئی چیز نہیں زیدا گر مسلمان مرے تو اس کا بیٹا اس کا وارث ہوگا اور نہ اس کا مال فقرائے مسلمین پر صرف ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم کفر بکنے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ درمختار میں ہے: وو وارتداداحدهما فسخ عاجل ملخصاً(۲) اگر زید نے کفریات مذکورہ بکنے کے بعد اثنائے عدت میں طلاقیں دیں تو واقع ہو گئیں اور اگر عدت گزرجانے کے بعد دی ہوں تو واقع نہ ہوئیں کہ لا طلاق فیما لا یملک “الحدیث (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۹ شوال المکرم ۱۳۹۹ھ