قیام میلاد کی شرعی حیثیت اور اس کے منکر پر کفر کا فتویٰ لگانے کا حکم
کھڑے ہو کر سلام پڑھنا جائز ومستحسن ہے، بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو کافر کہنا ! کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: محفل میلاد شریف میں حضور ستی ایام کو حاضر یا غیر حاضر جانکر تعظیم نبوی اینم کی غرض سے تمام حاضرین مجلس کھڑے ہو کر بآواز بلند صلوۃ وسلام پڑھتے ہیں اور ایسا کرنے سے روکنے والے پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والا سمجھتے ہیں کیا کھڑے ہوکر صلوۃ وسلام پڑھنا تعظیم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہے اور واقعی اس کا منکر کا فر ہے۔ کتاب وسنت سے اور خاص کر امام اعظم کی فقہ سے مع
حوالہ جواب عطافرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ فقط والسلام امستفتی: مولوی محمد امیر الدین، مقام چپروڈ یہ پوسٹ موڑ بھنگا ضلع دمکا (بہار) الجواب: کھڑے ہو کر صلوٰۃ وسلام پڑھنا بلا شبہ جائز ومستحسن ہے اور قیام کو ضرور تعظیم میں دخل ہے اور اس سے روکنے والا آج کل وہابی دیوبندی ہے جو اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فر ہے ۔ اور ان کے عقائد میں سے ایک بات یہ ہے کہ وہ خود کو مسلمان جانتے ہیں اور اہل سنت و جماعت کو قیام وسلام نیاز و فاتحه واستمداد وغیرہ معمولات جائزہ کے سبب کا فر جانتے ہیں اور جو بے وجہ شرعی مسلمان کو کافر کہے اس پر بحکم احادیث واقوال علما ء خودکفر لوٹتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۵ / ربیع الاول ۱۴۰۷ھ