آخر الزمان یا امام مہدی ہونے کا دعوی کرنے والے اور مشرکانہ افعال کرنے والے کا حکم
جو شخص کہے میں آخر الزمان ہوں، میں مہدی علیہ السلام ہوں وہ کافر و مرتد ہے! حضور مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی ! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ: یہاں ایک شیخی شخص ہے جو صاحب حیثیت ہے اور بڑے کاروبار کا مالک ہے، ہندؤوں کے بڑے بڑے پروگرام اور پوجا پاٹ میں شریک ہوتا ہے اور بڑی بڑی رقمیں بطور چندہ اور چڑھاوا پیش کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص کو مسلمان کہا جا سکتا ہے۔ اور کبھی وہی شخص کہتا ہے کہ میں آخر الزماں ہوں کبھی کہتا ہے کہ میں امام مہدی علیہ السلام ہوں اور کبھی بزرگان دین کی شان مبارک میں گستاخانہ الفاظ استعمال کرتا ہے اگر ایسا شخص مرجائے تو کیا اس کے جنازے کو کاندھا لگانا اور اس شخص کے جنازے کی نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ اور وہی شخص مسلمانوں کو تعمیر مسجد اور ہر نیک کام کے لئے بھی چندہ دیتا ہے اور اپنے نجی کاروبار کو بڑے لگن سے انجام دیتا ہے، براہ کرم شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں، کرم ہوگا ، نوازش ہوگی۔ آپ حضور کا خادم: سیداحمدعلی اشرف، کیلا بارڈر، درگ، ایم۔ پی
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وہ شخص جس کے یہ افعال و اقوال کفر درج سوال ہوئے وہ بلاشبہ کا فرمرتد بے دین ہے۔ جب تک تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح نہ کرے، ہر واقف حال مسلمان پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے اور اگر ہے تو بہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام ہے اور اس سے چندہ لینا بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ رذی الحجہ ۱۳۹۸ھ