اپنے آپ کو دیوبندی کہنے والا کافر ہے،اس کی پشت پناہی حرام، اس سے قطع تعلق لازم ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: (۱) زید کا یہ قول کہ: [1] جس شخص نے یا رسول اللہ لکھا، پڑھا وہ کافر ہے۔[۲] فاتحہ کا کھانا میلے کے برابر ہے،اس پر کفر کا فتویٰ آگیا ہے۔ [۳] و دیگر یہ کہ زید و اس کے دونوں بیٹے و داماد وغیرہ نے ایس۔ ڈی۔او۔ کے دریافت کرنے پر اقرار کیا کہ ہم لوگ دیوبندی ہیں، اور اپنے اپنے دستخط بھی کئے، زید وغیرہ یہ چاروں افراد اپنے اقرار و دستخط سے اسلام سے خارج اور کافر ہو گئے یا نہیں؟ یا صرف زید بھر ہی کافر ہوا، باقی نہیں۔ (۲) اور اگر چاروں کا فر ہو گئے تو مسلمان ہونے کے لئے چاروں کو کیا کرنا پڑے گا ؟ اور اس کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ (۳) کچھ لوگ ان لوگوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، در پردہ کھانا پینا سب چل رہا ہے لیکن وہ سب اپنے بہت ہی قریبی رشتہ دار ہیں ، شادی بیاہ کا بھی موقع ہے، بتایا جائے کہ اسلام کے قانون کے مطابق ہم لوگ زید وغیرہ کی پشت پناہی کرنے والوں کی شادی کے یا غیر شادی کے موقع پر شریک ہوں یا نہیں؟ (۴) مذکورہ سوال (ارسے ۳/ تک) نقل کر کے باندہ اور جبل پور بھیجا گیا، جس پر فتویٰ آگیا کہ جو اپنے آپ کو دیو بندی کہتے ہیں یادستخط کئے وہ اسلام سے خارج ہیں تو تقویٰ کی بنیاد پر چاروں کو کافر کہا جائے یا نہیں؟ (۵) زید کا ساتھی بکر جب شادی کی دعوت لے کر عمرو کے پاس گیا تو عمرو نے فتویٰ کی بنیاد پر بکر سے کہا کہ زید وغیرہ کو کافر کہتے اور کافر سمجھتے ہوئے ان کو چھوڑ کر دعوت دیتے ہو یا نہیں؟ تو بکر نے کہا کہ ہم زید وغیرہ کو چھوڑ کر دعوت تو دیتے ہیں مگر زید کو کافر نہیں کہتے ، اس پر عمرو نے جواب دیا کہ ہمارا زید سے
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ اپنے آپ کو دیوبندی کہنے والا کافر ہے،اس کی پشت پناہی حرام، اس سے قطع تعلق لازم ہے! جھگڑا بحیثیت مسلمان کے نہیں بلکہ بحیثیت کافر کے ہے تو زید کو کافر بھی نہیں کہتے اور بند بھی کر رہے ہو تو جب کا فر کو کا فرنہیں کہہ رہے تو بند کس بنیاد پر کر رہے ہو؟ لہذا عمرو نے بکر کی دعوت کو ٹھکراد یا لہذا کفر کی بنیاد پر فتوی کی روشنی میں کافر کہنا اور کہلوانا صحیح ہے یا غلط؟ (1) زید وغیرہ سب رامپور باگھیلان کے رہنے والے ہیں، اصل رامپور کے استفتاء پر بریلی دارالافتاء نے ۲۵ شعبان ۱۳۹۹ ھ کو زید کے قول اول پر زید کو کا فرقراردیا اس کے بعد زید نے قول نمبر ۲ ٫ کے الفاظ استعمال کئے، رامپور کی جماعت نے اس دوسرے قول کے ساتھ اس کے احکام بھی استفتاء کی شکل میں بھیج کر معلوم کیے۔ بریلی شریف کی عدالت نے تاریخ در ربیع الثانی ۱۴۰۰ ھ زید کو خارج از اسلام زید سے ہر قسم کے تعلقات کو حرام قرار دیتے ہوئے یہ آرڈر جاری کر دیا کہ زید کو ہرگز مسجد میں نہ گھنے دیا جائے ،اس دوسرے فتویٰ کے بعد رامپور کی جماعت نے متفقہ طور پر سارے تعلقات توڑتے ہوئے زید کو مسجد میں جانے سے روکا، زید وغیرہ کے رپورٹ پر SDO آیا اور باہمی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسجد میں تم چاروں جایا کرو، باقی دوسری مسجد میں سب لوگ جایا کریں، اس کے بعد جھگڑے اور بڑھے یہاں تک کہ گولی بھی چل گئی اس کے بعد زید کے دونوں بیٹے کیمور میں جا کر رہنے لگے، جہاں زید کی لڑکی داماد، سمدھی وغیرہ رہتے ہیں، اب شادی کا موقع آنے پر زید مولوی نثار احمد صاحب کٹنی کے پاس تو بہ نامہ مرتب کرایا جس کی بعینہ نقل حاضر عدالت ہے ، سماعت فرمائیں نقل مطابق اصل۔ ( تو بہ نامہ ) میں عبدالحمید رام پور ضلع ستنا و الے اپنی کم علمی کی وجہ سے حضور سر کارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حاضر ناظر نہ مان کر غلطی پر تھا، آج مؤرخہ ۱۲ فروری ۱۹۸۲ء بروز جمعه مولوی نثار احمد صاحب کٹنی کے سمجھانے سے اپنی غلطی کا احساس کر کے اپنے غلط عقیدے سے تو بہ کرتا ہوں اور پڑھتا ہوں : استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ۔ اے میرے پروردگار ! اپنے تمام جانے ان جانے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں میں، حضور کو حاضر و نظر ماننے کے ساتھ اہلسنت والجماعت کے تمام عقائد وحکم برابر مانتا رہوں گا اور آئندہ بار یک مسائل پر کبھی بحث یا نکتہ چینی نہیں کروں گا، آخر میں پھر اپنے تمام گناہوں وعقائد باطلہ سے تو بہ کرتا ہوں۔ اللہ قبول فرمائے ، آمین۔ میں نے یہ تو بہ نامہ اپنی زبان سے ادا کر کے مولوی نثار احمد صاحب سے دو گواہوں کے سامنے لکھوایا ہے جو قوم کے سامنے حاضر ہے قوم سے بھی التجا ہے کہ مجھے معاف کرے، اور یہ تو بہ نامہ قبول کرے۔ بقلم : شار احمد کٹنی، ۲ فروری ۱۹۸۲ء گواہ: (۱) رسول۔ (۲) حاجی عبدالمجید ۔ (۳) حاجی عبدالجبار کٹنی یہ تو بہ نامہ رجسٹری کے ذریعہ بتاریخ ۱۹ / فروری ۱۹۸۲ ء کو رامپور بھیجا گیا، رامپور کی جماعت نے تو بہ نامہ کی تصدیق کے لئے زید کو بلایا، پر زید نے آنے سے انکار کر دیا اور نہیں آیا، اس وقت تین آدمی بھیجے گئے کہ یہ تو بہ نامہ جو کیمور سے آیا ہے اور اس میں آپ کے دستخط ہیں، وہ آپ کے ہیں یا نہیں؟ زید نے بڑی گرمی سے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتا نہ کوئی مجھ سے مطلب ہے۔ اس پر رامپور کی متفقہ جماعت نے خط کے ذریعہ کیمور والوں و مولوی نثار احمد سے کہا کہ تو بہ نامہ کی تصدیق کے لئے زید و جماعت کا نمائندہ مادھو گڑھ سے قاری محمد یعقوب اور کٹنی سے مولوی نثار احمد اور یہ تو بہ نامہ بھی لے کر جبل پور چلیں جب تک قبلہ مفتی صاحب اس تو بہ نامہ کی تصدیق نہ کریں، ماننے کے قابل نہیں ہوگا اور اس پر ۲۶ فروری ۱۹۸۲ء کو مولوی شار احمد نے رامپور خط بھیج کر جماعت کو کہا کہ آپ لوگوں کے بلانے پر عبدالمجید کوضرور آنا چاہئے تھا پھر آدمی بھیجنے پر جھنجھلا کر جواب دے کر بڑی غلطی کی آپ کے اس کہنے سے میں متفق ہوں کہ تو بہ کی تصدیق کے بغیر اس پر عمل ناممکن ہے آپ لوگ آزاد ہیں، میں پتہ لگا رہا ہوں، اگر زید نے تو بہ توڑ دیا ہے تو ہماری طرف سے بھی اس کا بائیکاٹ ہوگا ، پھر ۶ فروری ۱۹۸۲ء کو مولوی نار احمد نے مادھو گڑھ میں اس شخص کے پاس جس نے بحث کے دوران یہ کہا تھا کہ میں عبد المجید ہوں، ایک خط لکھا جس پر کہا کہ میری جانچ پڑتال میں ۴ مارچ ۱۹۸۲ء کو عبدالمجید نے یہ بات کٹنی میں منظور کی اور کچھ وجہ بھی بتائی جو میری سمجھ میں صحیح نہیں تھی اور اسی خط میں نثار احمد نے یہ بھی لکھا ہے کہ عبد المجید کو جبل پور چلنے پر آمادہ کریں تبھی معاملہ حل ہوگا اور جب تک معاملہ صاف نہیں ہوتا تب تک عبدالمجید کو اور اس کا ساتھ دینے والوں کو بھی چھوڑنا پڑے گا لیکن زید وغیرہ کو لے کر دعوت بانٹی گئی تو عمر مولوی شار احمد کلنی کے پاس گیا، سارے حالات بتا کر فتویٰ سامنے رکھا جس پر مولوی نثار احمد نے یہ تحریر دی جو نقل کی جارہی ہے۔ نقل تحریر مولوی شار احمد ۱/۲۹ پریل ۱۹۸۲ء: عزیزان گرامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔ ضروری عرض یہ ہے کہ مجھے برابر خبریں مل رہی