کفری اشعار پڑھنے سنے والوں پر تو بہ تجدید ایمان فرض !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید جو شاعر ہے اس نے اپنی غزل کے آخر میں دو شعر بطور منقطع کہا ہے جو مندرجہ ذیل ہے، اس پر داد دینے پر شرع کا کیا حکم ہے؟ کس کو کروں میں سجدے پڑھوں کس کی نمازیں جس در کو بھی دیکھوں وہ درِ یار لگے ہے اس دنیا میں اک تم ہی مسلماں نہیں عالم واعظ بھی کسی بت کا پرستار لگے ہے المستفتی : غلام نوری شموخاں، جامع مسجد، قلعه، بریلی (یوپی)
بر تقدیر صدق سوال شاعر مذکور پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور بیوی رکھتا ہوتو تجدید نکاح بھی اس پر فرض ہے، شعر کا پہلا مصرعہ جو یوں ہے: ”کس کو کروں میں سجدے“ کا ظاہر ہے کہ وہ اللہ سے (جس کے لئے سجدہ اور نماز خاص ہے) بے خبر ہے اور اسے سجدہ اور اس کی عبادت سے منکر ہے اور دوسرے شعر کا حاصل یہ ہے کہ اس کے نزدیک معیار اسلام عشق بتاں ہے تو جو کسی حسین کا عاشق ہے خواہ وہ کافر ہی ہو ) وہ اس کے نزدیک مسلمان ہے اور بہت سے مراد انبیاء و اولیاء ہوں تو یہ بھی ان کی اہانت ہے اور اگر پرستار کے حقیقی معنی مراد ہوں جب تو اس نے بت پرستی کا نام مسلمانی رکھ دیا اور یہ کفر صریح ہے جن لوگوں نے دانستہ اس کے اشعار کو مقرر رکھا ان پر بھی وہی احکام ہیں جو شاعر پر ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ