نبی اور غیر نبی ، مومن اور کافرکو برابر گرداننا صریح کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: (1) زید نے ایک جلسہ عام میں زیر آیت کریمہ تقریر کی : {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً } دوران تقریر زید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور حضرت آدم علیہ السلام سے تمام انسانوں کو پیدا کیا اور سب کو وہی ہاتھ پیر عطا فرمایا۔ لہذا جب اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے درمیان کوئی تفریق نہ ڈالی تو انسان کیونکر تمام انسانوں کے درمیان تفریق ڈالے، ہرگز تفریق نہ ڈالنا چاہئے ، اس لئے کہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں جبکہ انسان کا اطلاق سب پر ہے حتی کہ نبی اور غیر نبی ، سب پر اور وہابی دیوبندی قادیانی مرزائی، سب پر بولا جاتا ہے اور انسان بول کر ہندو اور سکھ سب کو مرا دلیا جاسکتا ہے۔ تو زید کا کہنا کہ سب انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں
الجواب: زید بے قید کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ نبی اور غیر نبی اور مومن و کافرسب برا بر ہیں،سب انسان ہیں اور انسانوں میں اس طور پر کوئی تفاوت اور فرق مراتب نہیں ہے اور یہ صریح کفر ہے جس کی تہمت اس بے باک نے اللہ تعالیٰ پر رکھی ہے جبھی تو کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کے درمیان تفریق نہ ڈالی۔ اور قرآنی آیات جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پھر مومنین کے فضل کو بتاتی ہیں اور کافروں کی تنفیر و تفصیح پر نص ہیں سب سے منکر ہو گیا، اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے ورنہ ہر مسلم واقف حال پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ